اسلام آباد : سابق چیف جسٹس آف پاکستان جواد ایس خواجہ نے عام شہریوں کے ملٹری کورٹس میں ٹرائل کے خلاف سپریم کورٹ میں درخواست جمع کروادی ہے ۔  سابق چیف جسٹس نے عام شہریوں کے ملٹری کورٹس میں ٹرائل کے خلاف درخواست وکیل عزیر چغتائی کے توسط سے دائر کی، جس میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ عدالتوں کی موجودگی میں ملٹری کورٹس کے ذریعے سویلینز کا ٹرائل غیر آئینی ہے،عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ ملٹری کورٹس میں عام شہریوں کے ٹرائل کو غیر قانونی قرار دیا جائے۔ درخواست میں وزارت قانون اور وزارت دفاع کے علاوہ پنجاب، خیبرپختونخوا، سندھ اور بلوچستان کی صوبائی حکومتوں کو بھی فریق بنایا گیا ہے۔