کوئٹہ(مرید حسین باجوہ ) یہاں 20 تاریخ کے اجلاس سے پہلے تین معزز خواتین اور ایک مرد رکن اسمبلی کو اغواء کیا گیا ملک سکندر ایڈوکیٹ  نے کہا ہے کہ آج تک ہمارے 4 اراکین اراکین اسمبلی لاپتہ ہی ںجام کمال کو اب استعفیٰ دےدینا چاہئے ایک طرف آئین ہے تو دوسری طرف غنڈہ گردی ہے اراکین اسمبلی کو حبس بے جا میں رکھنا اغواء برائے قانون ہےبلوچستان میں آئین کو پامال کرکے خواتین رکبلن اسمبلی کو اغواء کیا گیا۔ہم چیف سیکرٹری کے آفس گئے چیف سیکرٹری غائب ہوگئےہم نے درخواست دی ہے کہ اغواء اراکین کو بازیاب اور دیگر اراکین کو تحفظ دیاجائےخواتین رکن اسمبلی کے ساتھ جو جام کمال حکومت نے کیا ہے اس کا نوٹس لیاجائے آئی جی آفس بھی گئے وہاں بھی درخواست جمع کرائی گئی چیف جسٹس سپریم کورٹ اور چیف جسٹس بلوچستان کے پاس بھی درخواست جمع کرایا گیاہےاس وقت تحریک عدم میں جام کمال کیخلاف صورتحال بلکل واضع ہے34 اراکین نے جام کمال کیخلاف تحریک عدم اعتماد پیش کیاجام کمال نے خود اعتراف کیا کہ میرے پاس 26 اراکین جبکہ 33 چاہئے ہوتے ہیں خواتین سمیت اراکین کو فوری طور پر بازیاب کرایاجائے اسد بلوچ نے کہا ہے کہ جام کمال نے بلوچستان میں غیر کیفیت کی صورتحال پیدا کی ہے۔جام کمال غیر قانونی طور پر وزیر اعلیٰ کے عہدے پر بیٹے ہیں اراکین کیخلاف گولڈ اور گن ہتھیار استعمال کیا جارہاہے آج پوری قوتین فورسز ایک شخص کو بچانے کیلئے افرتفری پیدا کررہے ہیں۔اللہ پاک بھی جام کمال کیخلاف ہے۔بلوچستان کی ماں اور بہنوں کی حفاطت ہم سب کی زمہداری ہے۔بلوچستان حالت بنگلہ دیشن کے زمہدارا خراب کررہے ہیں۔اسد بلوچ