کیا پاکستان کی زمینوں سے تیل نکل آیا ہے.؟؟؟
کیا پاکستان کی زمینوں سے تیل نکل آیا ہے.؟؟؟
FBR
خواب غفلت سے بیدار ہو.
تحریر : محمداکرم خان ریٹائرڈ ڈپٹی کمشنر RTO ملتان
آجکل پاکستان کے ہر چھوٹے بڑے شہر میں رہائشی اور تجارتی استعمال کیلئے پلاٹوں کی قیمتیں ھو شرباء اضافے کے ساتھ بڑھ رھی ہے جس کی مین وجہ FBR کی خاموشی ھے۔چونکے ان جگہوں میں کی گئی سرمایہ کاری پر FBR کی طرف سے ذریعہ آمدن کے ذرائع نہیں پوچھے جا رہے اور نہ ہی متعلقہ رجسٹراز یا ٹرانسفر کرنے والی اتھارٹی سے انکم ٹیکس کی دفعہ 176 کے تحت ڈاؤن پے منٹ،ماھانہ/سہ ماہی اقساط کی ادائیگی یا فائنل پے منٹ ادائیگی کی تفصیلات آکھٹی کرکے متعلقہ ٹیکس آفسران کو بھیجی جا رہی ہے اور نہ ہی متعلقہ علاقے کے ٹیکس آفسران ان اتھارٹز سے کوائف حاصل کرتے ہیں اس طرح اربوں کی سرمایہ کاری ٹیکس سے مبرا ہورھی ہے۔
بلکہ ہر سال ٹیکس Limitations کی دفعات کے تحت ٹائم بارڈ ہو رہی ہے موجود حکومت کے دور میں تو نہ صرف رہائشی خصوصاََ DHA ، بحریہ، واپڈا ٹاؤن وغیرہ میں 1 کنال کی فائل جو ہر سال پہلے 50/40 فی کنال مل جاتی تھی اب اسکی قیمت ایک کروڑ سے بڑھ گئی ھے۔پراپرٹی ڈیلرز مافیا نے اپنے کمیشن یا روکڑے کی خاطر ان بنجر زمینوں کے ریٹ اتنے بڑھا دئے ھیں کہ متوسط آدمی پلاٹ لینے کا سوچ نہیں سکتا۔ان پلاٹس پر ڈویلمنٹ کو کم از کم مزید دس سال لگیں گے ۔
لگتا ہے کہ پاکستان کے ہر پلاٹ میں سے تیل نکل آیا ہے اگر وزیراعظم پاکستان یا چیرمین FBR پاکستان میں ریونیو آکھٹا کرنا چاہتے ہیں تو اگر کسی فرد کی ایک کروڑ آمدن یا سرمایہ کاری کو UnTax قرار دے دیں تو فی شخص کم از کم 16 لاکھ ٹیکس آکٹھا ہو سکتا ہے جبکہ چوری کا جرمانہ بھی علیحدہ آکٹھا ہو سکتا ہے۔۔
آجکل لوگوں کی آمدنی کا گراف گررہا ہے جبکہ سرمایہ کاری بڑھ رھی ہے یہ کھلا تضاد ہے FBR آفسران کو فوراً متعلقہ اتھارٹی سے معلومات اکٹھی کر کے دفعہ 121،(5) 122 یا دفعہ(1) 122 کے تحت کارروائی کرکے رئیل اسٹیٹ میں بلیک منی کو نہ صرف روکا جا سکتا ہے بلکہ ٹیکس گزاروں کی تعداد میں بہت زیادہ اضافہ بھی کیا جا سکتا ھے۔ FBR کے نئے چیرمین جناب ڈاکٹر اشفاق صاحب اس پر کام کرنے کی قابلیت رکھتے ہیں۔
اگرچہ FBR نے DNFBs کے تحت تمام پراپرٹی ڈیلرز،ڈویلپررز کو پابند کیا ہے کہ آئندہ سے 20 لاکھ سے زائد کی خرید وفروخت کا حساب رکھیں اور خود کو DNFBs سے رجسٹر کروائیں۔
یہ قدم موجودہ حکومت کا لا جواب قدم ہے لیکن گزشتہ سالوں کا ریکارڈ آکٹھا کر کے اسے بھی ٹیکس کے دائرے میں لانا چاہئے۔ امید ہے اس طرح صحیع سرمایہ کاری سامنے آئیگی اور بلیک منی بھی ختم ہو گی۔
محمد اکرم خان ایڈووکیٹ ہائکیورٹ( ریٹائرڈ ڈپٹی کمشنر RTO ملتان/ ایڈیشنل ڈائریکٹر انٹیلیجنس اینڈ انویسٹی گیشن FBR ملتان)
0300-7309286








































Visit Today : 132
Visit Yesterday : 438
This Month : 7745
This Year : 71464
Total Visit : 176452
Hits Today : 620
Total Hits : 1004741
Who's Online : 2






















