شانگلہ الپوری (رضاشاہ سے) شانگلہ کے عوامی سماجی حلقوں نے مطالبہ کرتے ہوے کہا ہے کہ شانگلہ کے ترقیاتی منصوبوں میں اربوں روپوں کے کھپلوں کی انکوائری کیلے نگران سیٹ اپ کے زیرے نگرانی ایک شفاف کمیٹی کو تشکیل دیا جائے کیونکہ سابقہ صوبائی پی ٹی آئی کے حکومت نے سرکاری خزانے سے شانگلہ کی ترقیاتی منصوبوں کے نام اربوں روپے منظور کر اکر آپنے منظور نظر افراد کتنا کردیا ہیں جبکہ شانگلہ کی پسماندگی تا حا ل جوں کے توں ہےحالیہ کرپشن میں حلقہ پی کے 23کا ایم پی آیے مقامی ٹیکداران کے علاوہ سرکاری محکمے ٹی ایم ایز آر ڈی ڈی برابر کے شریک ہیں شانگلہ میں جو کرپشن پی ٹی آئی کے دس سالہ دورے اقتدار میں ہوا ہے اسکی مثال گزشتہ 76سالوں میں نہیں. مییلتی ہے کیونکہ ضلع شانگلہ میں حالیہ جتنی سرکاری محکموں میں بھرتیاں ہوئ ہے تو اس میں بھی پی ٹی آئی کے ایجنٹوں اور حاریوں نے کنڈیڈیٹ سے بھاری رقوم کرپشن کے مد میں وصول کئے ہیں جو کے بارٹی کے منشور کے بالکل بر عکس ہیں کیو نکہ پارٹی کا نعرہ نو کرشن نو بے انصافی تو پر ملک کے سب سے زیادہ پسماندہ ضلع شانگلہ میں کیوں ہوا اور شانگلہ کے عوام کو کیوں اندھرے میں رکھ کر الیکشن آؤٹ حاصل کیا