ملتان(صفدر بخاری سے) نامور اسکالر اور ماہر اقبالیات ڈاکٹر خرم الہی نے کہا ہے کہ اقبال کے کلام میں آفاقیت کے رنگ نمایاں ہیں جنہیں سمجھنے کے لیے ہمیں اقبال کے پیغام اور کلام کا گہرا مطالعہ کرنا ہوگا۔انہوں نے یہ بات ملتان آرٹس کونسل اور ارتقا آرگنائزیشن پاکستان کے زیر اہتمام ملتان آرٹس کونسل میں اپنے لیکچر” شکوہ اور جواب شکوہ سے آگے” کے دوران اپنی گفتگو میں کہی۔ خصوصی سیشن کے مہمانان گرامی میں سجاد جہانیہ، پروفیسر ڈاکٹر عبدالقدوس صہیب ، پروفیسر امجد رامے ، پروفیسر ڈاکٹر ذوالفقار رانا ، شوکت اشفاق شامل تھے۔ سٹیج سیکرٹری کے فرائض سلیم قیصر نے انجام دیے۔ تلاوت قرآن کریم کی سعادت مشہود صدیقی نے حاصل کی جبکہ نعت شریف شوکت سعیدی نے پیش کی۔ استقبالیہ کلمات خواجہ مظہر صدیقی ڈائریکٹر ارتقاء نے پیش کیے۔ ڈاکٹر خرم الٰہی کا تعارف وقار طیب نے بیان کیا ۔ ڈاکٹر خرم الٰہی نے کہا کہ اقبال کو نئے سرے سے دریافت کرنے کی ضرورت ہے۔اقبال ہمیں عالمی دانش کے ساتھ روشناس کراتے ہیں۔اقبال جدید دنیا سے بیزار نہیں۔وہ اپنی محبت آمیز اقدار کے ساتھ نئے زمانوں کے روز و شب کو خوش آمدید کہتے ہیں۔اقبال کا پیغام امید سے لبریز ہے۔اقبال کا فلسفہ انسانی فہم فراست اور تحقیق و جستجو کے معراج کا فلسفہ ہے۔ مہمانان گرامی نے ارتقاء آرگنائزیشن پاکستان کے اقدامات اور کار خیر کے منصوبوں کو سراہا ۔ صدر تقریب ڈائریکٹر محکمہ تعلقات عامہ سجاد جہانیہ نے کہا فکر اقبال کو آج کے معروضی حالات میں سمجھنا اور دیکھنا نہایت خوش آئند عمل ہے اور ڈاکٹر خرم الہی مبارکباد کے مستحق ہیں کہ وہ فکر اقبال کو نئے عصری تقاضوں کے ساتھ ہم آہنگ کرکے ان کے پیغام کو عالمی سطح تک پہنچانے کی سعی و جستجو کر رہے ہیں۔ڈائریکٹر ملتان آرٹس کونسل سلیم قیصر نے کہا کہ اقبال کے آفاقی کلام سے ہماری نئی نسل کو روشناس کرانا بے حد ضروری ہے۔ارتقا آرگنائزیشن کے روح رواں خواجہ مظہر صدیقی نے کہا کہ ڈاکٹر خرم الہی باکمال اسکالر اور ماہر اقبالیات ہیں۔اور اس سلسلے میں ان کی کاوشیں لائق صد تحسین ہیں۔انہوں نے کہا کہ اقبال کے پیغام کو جدید عصری تناظر میں سمجھنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ ڈائریکٹرز ارتقاء اعظم علی اور خواجہ سہیل طفیل نے ڈاکٹر خرم الٰہی کو یادگاری سووینئر جبکہ شوکت اشفاق نے ملتانی اجرک پیش کی ۔