اے اماں حوا کی بیٹی، اپنا مقام پہچان
اے اماں حوا کی بیٹی، اپنا مقام پہچان
تحریر: محمد جمیل شاہین راجپوت
ادیب و کالم نگار
زمانے کی ترقی اور تہذیب کے بدلتے تقاضے انسانی معاشرت پر گہرے اثرات ڈال چکے ہیں۔ وہ اقدار جو کبھی ہماری ثقافت اور روایات کا خاصہ تھیں، آج وقت کی دھول میں کہیں گم ہو گئی ہیں۔ خاص طور پر خواتین کا مقام اور ان کی عزت و وقار وہ موضوع ہے جس پر سوچنا اور بات کرنا ہر ذمہ دار انسان کا فرض ہے۔
پرانے وقتوں کی اقدار
پرانے وقتوں میں، گانے اور رقص کا ایک الگ دائرہ ہوا کرتا تھا۔ مجرا ایک مخصوص پیشہ تھا اور اسے کرنے والی خواتین کے لیے مخصوص دالان اور کمرے ہوا کرتے تھے۔ ان محفلوں کے تماشائی اجنبی مرد ہوا کرتے تھے، اور یہ سب ایک الگ دنیا کا حصہ تھا۔ ان تقریبات کا معاشرتی دائرے سے الگ رہنا ایک عمومی اصول تھا۔
دورِ جدید اور “ترقی” کی شکل
دورِ حاضر میں یہ سب بدل چکا ہے۔ شادی بیاہ کی تقریبات میں رقص و موسیقی کو ایک لازمی حصہ سمجھا جانے لگا ہے۔ گانے والی یا ناچنے والی پیشہ ور خواتین کا دور تو ختم ہو چکا، لیکن ان کی جگہ اب شریف زادیاں، اپنی خوشی یا سماجی دباؤ کے تحت، ڈانس فلور کی زینت بننے لگی ہیں۔ شادی ہال کے چمکتے دمکتے فلور پر وہ خواتین اپنا فن دکھاتی ہیں جو اپنے خاندان کی عزت کی علمبردار سمجھی جاتی ہیں۔
یہاں المیہ یہ ہے کہ تماشائی بھی اجنبی نہیں بلکہ سگے رشتہ دار ہوتے ہیں۔ باپ، بھائی، شوہر، اور بیٹے نہ صرف اس منظر کا حصہ ہوتے ہیں بلکہ فخر اور لطف کے ساتھ اسے دیکھتے بھی ہیں۔ وہ رقص جو کبھی صرف تفریح کا ذریعہ تھا، اب خاندانی روایات کا حصہ بنتا جا رہا ہے۔
اسلامی تعلیمات اور عورت کا مقام
اسلام نے عورت کو عزت، وقار، اور حیاء کا پیکر بنایا ہے۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
> “وقرن فی بیوتکن ولا تبرجن تبرج الجاہلیۃ الاولیٰ”
(الاحزاب: 33)
ترجمہ: “اور اپنے گھروں میں ٹہری رہو اور پہلی جاہلیت کی سی سج دھج نہ دکھاؤ۔”
یہ آیت عورت کی عزت اور پردے کی اہمیت کو واضح کرتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے عورت کو شرم و حیا کا پیکر بنایا اور اسے اس کی عزت و عظمت کے ساتھ زندگی گزارنے کا حکم دیا۔ حتیٰ کہ حج کے موقع پر بھی، جہاں عبادات میں سب برابر ہوتے ہیں، اللہ نے عورت کو صفا و مروہ کے درمیان تیزی سے چلنے (سعی) سے مستثنیٰ کیا اور آہستہ چلنے کا حکم دیا۔ یہ اس بات کا اشارہ ہے کہ عورت کے لیے حیاء اور وقار ہر عمل میں مقدم ہے۔
آج کے دور میں، ہم نے ان تعلیمات کو بھلا دیا ہے اور عورت کو ناچ گانے اور کھیلوں جیسی سرگرمیوں کا حصہ بنا دیا ہے۔ کیا یہ واقعی ترقی ہے؟ یا ہم نے اپنی دینی اور اخلاقی اقدار کا سودا کر لیا ہے؟
عورت کا مقام اور تہذیب کا زوال
یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ عورت کا مقام اس سے کہیں زیادہ بلند اور محترم ہے۔ عورت جسے خاندان کی بنیاد سمجھا جاتا تھا، اب تقریب کی زینت بن کر رہ گئی ہے۔ شریف گھرانوں کی بیٹیاں اور بہنیں، جو کبھی پردے اور حیاء کی مثال تھیں، آج سماجی دباؤ یا نام نہاد “تفریح” کے لیے ایسے کاموں میں شریک ہوتی ہیں، جہاں ان کی معصومیت اور عزت دونوں کا تماشا بنایا جاتا ہے۔
حیا کا درس اور ہماری ذمہ داری
یہ وقت ہے کہ ہم اپنے رویوں پر نظر ثانی کریں۔ ہمیں اپنی بیٹیوں، بہنوں، اور ماؤں کو ان کا اصل مقام یاد دلانا ہوگا۔ ان کی عزت اور وقار کی حفاظت کرنا ہماری اولین ذمہ داری ہے۔ ہمیں اسلامی تعلیمات کو اپنی زندگی کا حصہ بنانا ہوگا اور اپنی نسلوں کو وہ اقدار سکھانی ہوں گی جو ہماری پہچان ہیں۔
اے اماں حوا کی بیٹی، اپنا مقام پہچان! اپنے وجود کی حقیقت کو سمجھ اور اپنی عزت کو اس جدیدیت کی بھینٹ مت چڑھا۔ کیونکہ تیرا وجود محض ایک تفریح نہیں بلکہ ایک خاندان کی عزت اور وقار کا علمبردار ہے۔






































Visit Today : 137
Visit Yesterday : 485
This Month : 12854
This Year : 60690
Total Visit : 165678
Hits Today : 756
Total Hits : 840898
Who's Online : 6




















