ملتان :  فارمرز ڈیولپمنٹ آرگنائزیشن (ایف ڈی او) ،کیئر پاکستان اور بہاءالدین زکریا یونیورسٹی ملتان کے اشتراک سے ”فصلوں کے کیلنڈر پر موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات” کے موضوع پر ایک روزہ مشاورتی ورکشاپ ملتان کے ایک مقامی ہوٹل میں منعقد ہوئی۔ ورکشاپ میں پاکستان بھر سے ممتاز زرعی محققین، پالیسی ساز، کاشتکار، سول سوسائٹی کے نمائندگان اور دیگر اہم اسٹیک ہولڈرز نے شرکت کی۔ورکشاپ کے دوران ماہرین نے موسمیاتی تبدیلی کے زراعت پر گہرے اثرات پر گفتگو کی، جن میں کاشت اور کٹائی کے اوقات میں تبدیلی، کیڑوں کے دباؤ میں اضافہ، اور موسمیاتی دباؤ سے فصلوں کی صحت اور پیداواریت پر اثرات شامل ہیں۔ شرکاء نے بدلتے ہوئے موسمی حالات کے مطابق زرعی طریقوں کو اپنانے کی اہمیت پر زور دیا تاکہ پاکستان میں پائیدار کاشتکاری اور غذائی تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔اس موقع پر جنوبی پنجاب کے کسانوں سمیت ممتاز زرعی محققین، پالیسی سازوں، سول سوسائٹی کے نمائندوں اور اہم سٹیک ہولڈرز نے گروپ ڈسکشن کے ذریعے نقد آور اجناس مکئی، کپاس،آلو، چاول، گندم پر موسمیاتی تبدیلیوں سے ہونے والے منفی اثرات کی وجوہات، سدباب اور جدید طریقہ کاشت کے حوالہ سے بات کی۔ اور ورکشاپ کے اختتام پر شرکاء نے اہم فصلوں جیسے مکئی، آلو، چاول، کپاس، اور گندم کے لیے ایک جامع موسمیاتی مطابقت پذیر فصل کیلنڈر تیار کرنے پر زور دیا ۔ جو کے کاشتکاروں کو موسمیاتی تبدیلیوں سے ہم آہنگ زرعی طریقے اپنانے کے لیے عملی رہنما خطوط فراہم کرے گا۔ یہ کیلنڈر پاکستان کی غذائی تحفظ کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لیے کاشتکاروں کو ضروری معلومات اور پلانگ فراہم کرنے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوے ڈپیتی سیکرٹری زراعت ساوتھ پنجاب ، ڈاکٹر زبیر وائس چانسلر بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی، غلام مصطفی سی ای او فارمرز ڈویلپمنٹ آرگنائزیشن ڈاکٹر فرخ بشیر ڈائریکٹر ریسرچ اینڈ میٹرولوجیکل ڈیپارٹمنٹ اسلام آباد،ڈاکٹر ناظم حسین لابر ڈین بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی ملتان، ڈاکٹر شکیل احمد ڈائریکٹر اگرانومی ڈیپارٹمنٹ بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی، ڈاکٹر فہد رسول پروفیسر،شہزاد صابر ڈائریکٹر ایگری کلچر ایکسٹینشن ڈیپارٹمنٹ، ، صائمہ صفدر پروگرام منیجر کیئر پاکستان، ، پرویزاقبال انصاری سینئر پروگرام منیجر فارمرز ڈویلپمنٹ آرگنائزیشن نے بات کرتے ہوئے کہا کہ موسمیاتی تبدیلیوں نے جہاں فصلوں کی کاشت پر منفی اثرات مرتب کیے ہیں وہاں فصلوں کا پیٹرن بدل کر رکھ دیا ہے جس کی وجہ سے فوڈ سیکورٹی کے مسائل بڑھ رہے ہیں۔ جن سے انفرادی اور اجتماعی سطح پر اقدامات ناگزیر ہو چکے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بالواسطہ کاشتکار کو تیار کرنا ہوگا اور بڑے پیمانے پر آگاہی پھیلانے کی ضرورت ہے کہ کاشتکار تبدیلی کے اس پیٹرن کو سمجھے اور فوری اقدامات کو یقینی بنائے۔ اس سلسلہ میں تحقیقی اداروں سمیت، متعلقہ محکمہ جات کو ترجیحی بنیادوں کام کرنا ہوگا اور حکومت ٹھوس بنیادوں اقدامات بروئے کار لائے تاکہ فوری طور پر موسمیاتی تبدیلی کے منفی اثرات نمٹا جاسکے۔ مقررین کا کہنا تھا کہ اس ورکشاپ میں جمع کی جانے والی تجاویز کو صوبائی و قومی سطح پر پالیسی سازاداروں تک پہنچایا جائے گا۔ ورکشا پ میں سید آفتاب واجد،واجد نسیم ڈائریکٹر انٹرنیشنل ریسرچ فوڈ سکیورٹی،واجد نسیم ڈائریکٹر انٹرنیشنل ریسرچ فوڈ سکیورٹی۔ پروفیسر ڈاکٹر اسحق رحمانی،ڈاکٹر صغیر احمد،ڈاکٹر غلام عباس،عمر بشیر ڈائریکٹر کراپ اینڈ رپورٹنگ وہاڑی ڈاکٹرسید اعجاز الحسن ڈائریکٹر پی آر آئی یوسف والا،چوہدری مقصود احمد جٹ،عامر حیات رندھاوا پرائم منسٹر سٹینرنگ کمیٹی،مس ثمرہ پراجیکٹ آٖفیسر کیئر پاکستان،،سہیل اقبال،ٹھاکر عظمت چوہان،زاہد محمود،اسد نواز خان،قاسم بشیر سمیت ایوب ایگریکلچرل ریسرچ انسٹی ٹیوٹ فیصل آباد، نیشنل انسٹی ٹیوٹ فار بائیوٹیکنالوجی اینڈ جینیٹک انجینئرنگ (NIBGE)، نیوکلئیر انسٹی ٹیوٹ فار ایگریکلچر اینڈ بایالوجی (NIAB)، مکئی اور باجرہ ریسرچ انسٹی ٹیوٹ یوسف والا ساہیوال، آلو ریسرچ انسٹی ٹیوٹ ساہیوال، نیشنل ایگریکلچرل ریسرچ سینٹر اسلام آباد، یونیورسٹی آف ایگریکلچر فیصل آباد، بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی ملتان، محمد نواز شریف یونیورسٹی آف ایگریکلچر ملتان، غازی یونیورسٹی ڈیرہ غازی خان، اور اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور سمیت دیگر معروف تحقیقی اداروں نے حصہ لیا۔تیار شدہ فصل کیلنڈر اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ وسیع پیمانے پر شیئر کیا جائے گا تاکہ اس کے نفاذ اور موصول ہونے والے فیڈبیک کی روشنی میں اس کی مزید بہتری اور مؤثریت کو یقینی بنایا جا سکے۔