ملتان: بزم حسینیہ پاکستان کے زیر اہتمام 25ویں سالانہ خلیفہ بلافصل سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کانفرنس آستانہ عالیہ بدریہ ملتان شریف پر منعقد ہوئی ۔ جس کی صدارت بانی و صدر بزم حسینیہ پاکستان پروفیسر پیر خواجہ الشیخ محمد شفیق اللہ صدیقی البدری الحسینی نے کی اور صدارتی خطبہ میں کہا کہ حضرت ابوبکر صدیق نے مردوں میں سب سے پہلے اسلام قبول فرمایا۔ آپ افضل البشر بعد الانبیاء بالتحقیق کے مرتبہ پر فائز ہیں۔ حضور خاتم النبیین احمد مجتبے محمد الرسول اللہ صلی اللہ علی حبیبہ محمد وآلہ وسلم نے اپنی ظاہری عمر مبارک میں 17 نمازوں کی امامت اپنے مصلی پر کروانے کا حکم حضرت ابوبکر صدیق کو فرمایا۔ آپ محافظ ختم نبوت تھے آپ کے دور خلافت میں مسیلمہ کذاب اور اسود عنسی سے مسلمانوں نے جنگ کی اور منصب ختم نبوت کا دفاع کیا۔ آپ ہی نے قرآن مجید کو کتابی صورت میں جمع کروایا۔ آپ ہی نے منکرین زکوۃ کا فتنہ دفن کیا۔ آپ بچپن سے لیکر وصال مبارک تک حضرت محمد صلوۃسلام کے ہمراہ سفر، ہجر، غزوہ، مکہ، مدینہ الغرض ہرجگہ موجود رہے۔ آپ کیلیے رسول اللہ نے فرمایا کہ ابوبکر کے مجھ پر اتنے احسانات ہیں کہ انکا بدلہ قیامت میں اللہ عزوجل خود دے گا۔ حضرت ابوبکر کی بیٹی ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا حضور صلوۃ وسلام کے نکاح میں آء۔ حضرت ابوبکر نے اپنا تمام مال رسول اللہ کی خدمت میں پیش کردیا اور اللہ عزوجل نے ابوبکر صدیق کیلیے سلام بھیجا اور پوچھا کہ کیا ابوبکر اللہ پر راضی ہے۔ حضرت ابوبکر صدیق نے ساری زندگی بلخصوص قبل از اسلام بھی کبھی بت پرشتی نہ کی اور نہ ہی کبھی شرب نوشی کی۔ آپ اشراف مکہ میں سے تھے اور ہمیشہ حضور صلوۃسلام کے محافظ کی حیثیت سے رہے۔ آپ کی وجہ سے کثیر تعداد میں لوگ مشرب با اسلام ہوئے۔ آپ ہی نے اپنا مال دے کر حضرت بلال حبشی کو آزاد کروایا۔ آپ خلیفہ اول، جامع القرآن، سسر رسول، وارث مصلی رسول، جانشین رسول، یار غار و یار مزار ہیں۔ آپ کی قبر انور حضور صلوۃسلام کے پہلوں میں موجود ہے اور یہ اجازت قبر رسول سے ملی کہ دوست کو دوست سے ملا دو۔ آپ انتہاء شفیق، عبادت گزار، متقی پرہیزگار، غریبوں کی مدد کرنے والے عظیم صحابی رسول تھے۔ آپ کے فضائل میں درجنوں آیات قرآنیہ اور احادیث نبویہ موجود ہیں۔ اللہ پاک کی ان پر بے شمار رحمتوں کا نزول ہو اور انکے صدقے ہم سب کی بے حساب مغفرت ہو۔ آمین۔کانفرنس میں بابو نفیس احمد انصاری، محمد قطیبہ افضل البدری، حافظ صدر رضا سعیدی، حافظ محمد احسان البدری، عبدالحمید البدری ودیگر نے اظہار خیال کیا۔