اربوں کا ٹیکس روزانہ کی بنیاد پر ڈوب رہا ھے
bbc news urdu نے Wednesday، 8 December 2021 کو شائع کیا.
اربوں کا ٹیکس روزانہ کی بنیاد پر ڈوب رہا ھے
محمد اکرم خان
گزشتہ کئی سالوں سے رئیل اسٹیٹ کے کاروبار میں ہر سال کھربوں روپیہ کی سرمایہ کاری ہو رہی ہے۔ مگر صوبائی یا FBR کو صحیح ٹیکس وصول نہیں ہورہے۔ مگر رجسٹریشن اتھارٹز ملی بھگت سے مروجہ قوانین کی خلاف ورزی کر رہے ہیں.اشٹام ڈیوٹی ایکٹ 1899 اور انکم ٹیکس کی دفعہ 236c اور دفعہ 236k کے تحت Consideration Amount (یعنی جس رقم پر سودا ھوا ہے) پر ٹیکس منجملہ اشٹام ڈیوٹی 1%، ٹرانسفر فیس، ضلع کونسل 1%، گین ٹیکس( ایک سال سے لے کر چار سال کے دوران فروخت پر %5 تا %10) اور ودہولڈنگ ٹیکس دفعہ 236c اور 236k پر %1 جمع کروانا ہوتا ہے۔انکم ٹیکس کی دفعہ (ii) (6) 68 واضع بتاتی ہے کہ Consideration Amount کا %1 ٹیکس سیلر اور خریدار نے جمع کروانا ہے۔ اسی طرح دفع (3) 27A اشٹام ایکٹ 1899 واضح کرتی ہے کہ غیر منقولہ جائیداد کی وہ ویلیو اشٹام ڈیوٹی کے لیے لی جائیگی جو خریدار اور فروخت کنندہ کے درمیان طے ہوتی ہے۔ یا دونوں پارٹیوں کے درمیان کسی”Instrument “/ معاہدے میں تحریر ہوگی۔
حقیقتاً تمام رہائشی اور تجارتی کالونیوں میں کم از کم 10 مرلے کا پلاٹ 50 تا 70 لاکھ اور 1 کنال کا ایک کروڑ سے ایک کروڑ 20 لاکھ میں فروخت ہو رہا ہے۔ جبکہ Dc ریٹ جوکہ تقریباً کم از کم 50 ہزار روپے مرلہ ہوتا ہے۔ اس پر تمام رجسٹریشن اتھارٹز %1 کاٹتی ہیں جو کہ 10 مرلے پر کم از کم 5000 ہے اور 1 کنال پر Rs10,000 بنتا ہے جبکہ حقیقتاً کم از کم 10 مرلہ پر Rs50,000 اور ایک کنال پر Rs100000 اس طرح صرف 10 مرلہ پلاٹ فروخت کرنے پر صوبائی گورنمنٹ/Fbr کو یہ نقصان مبلغ ایک لاکھ 80 ھزار سے 3 لاکھ 60 فی کنال اٹھانا پڑتا ہے۔چونکہ Dc ریٹ پر investors کم ٹیکس جمع کروا کر دھڑا دھڑ Real Estate میں سرمایہ کاری کر رہے ہیں۔ اور ریگولیٹری اتھارٹز ایف بی آر اور آڈیٹر جنرل آف پاکستان اس کوتاہی کا نوٹس نہیں لے رہے۔ لہذا ہر سال گورنمنٹ کو رہائشی اور تجارتی پلاٹوں پر اربوں روپے کم ٹیکس وصول ہوتا ہے . اس کے علاوہ چونکہ خریداروں سے خریدار کے ذریعہ آمدن کوFBR نہیں پوچھ رہا۔ لہذا نہ صرف قابل ٹیکس آمدنی پر اربوں کی چوری ہو رہی ہے بلکہ اشٹام ڈیوٹی اور ود ہولڈنگ ٹیکس کی مد میں مزیداربوں روپے کا نقصان ہو رہا ہے۔
اسی طرح انکم ٹیکس کی دفعہ 75A جو فنانس ایکٹ 2019 میں رائج کی گئی ہے میں صاف لکھا ہے کہ خریدار Fair Market Value 5.M (پچاس لاکھ) سے زائد کی غیر منقولہ جائیداد بذریعہ چیک خرید کرئے گا۔ مگر اس پر بھی عمل نہیں ہورہا ھے.
اگر اس کٹوتی کا اڈٹ کیا جائے تو ناصرف غیر ضروری Invstment ٹیکس کے دائرے میں آ جاے گی بلکہ کھربوں کی ریکوری ھو جاے گی۔اور پلاٹوں کی قیمتیں آدھی ھو جائیں گی اور genuine خریدار مارکیٹ میں آ جائیں گے۔
گورنمنٹ کو سرمایہ dead real estate industry کی بجائے کمرشل انڈسٹری یا زراعت میں لگانا چا ہیے۔تاکہ کروڑ لوگوں کو روزگار ملے۔
Muhammad Akram Khan.
Adv High court.
Former Deputy Commissioner FBR multan.
Rtd Additional Director intelligence and investigation fbr multan.
03007309286.
ٹیگز:-







































Visit Today : 313
Visit Yesterday : 569
This Month : 7488
This Year : 71207
Total Visit : 176195
Hits Today : 2301
Total Hits : 1003067
Who's Online : 6






















