دو کم سن بچیوں کے ساتھ ریپ کا معاملہ۔انتظامیہ ہوش کے ناخن لے
وہاڑی : دو کم سن بچیوں کے ساتھ ریپ کا معاملہ۔انتظامیہ ہوش کے ناخن لے۔یہ کوئی معمولی واقعہ نہیں ہے۔ملزمان کو نظر بند کیا جانا چاہیئے۔دھرتی ایسے لوگوں کا ناپاک وجود قبول نہیں کرتی۔۔۔۔۔۔اہل علاقہ چیف جسٹس آف پاکستان سے واقعہ کا از خود نوٹس لینے کی اپیل تھانہ شیخ فاضل بورے والا وہاڑی ایجنسیاں اور ادارے کہاں سوئے ہوئے ہیں خون سفید ہو گیا۔۔۔انسانیت دم توڑنے لگی۔بربریت کی ایک نئی تاریخ رقم کر دی گئی۔۔۔۔ظلم کی بدترین مثال قائم کوئی اعلی افسر مظلوم خاندان کے گھر نہیں پہنچا ۔دو کم سن بچیوں کے ساتھ ریپ کا دردناک واقعہ۔۔الللہ تعالی مجھے موت دے دے ۔یا۔مجھے انصاف دے دے۔اس زندگی سے مر جانا بہتر۔تفتیشی آفیسر قاسم علی سب انسپکٹر کامدعی کے ساتھ ۔ انتہائی دھمکی آمیز اور جارحانہ رویہ،پروفیشنل مس کنڈیکٹ کے زمرے میں آتا ہے-قاسم علیSi جو اپنے فرائض میں سستی اور غفلت کے لحاظ سے اپنا کوئی ثانی نہیں رکھتا اور ناقص تفتیشوں میں بہت شہرت رکھتا ہے, نے چار روز تک ملزمان جان بوجھ کر گرفتار نہیں کیے۔۔۔والد سلیم بھٹی سکنہ 417/ای بی تھانہ شیخ فاضل کا مبینہ الزام تفصیلات کے مطابق ریاست مدینہ جیسی حکومت چلانے کے دعویداروں اور بے گھر لوگوں کو کروڑ گھر دینے والی دعویدار ریاست، اسلامی جمہوریہ پاکستان* میں غربت کی وجہ سے چار دیواری نہ کرسکنے والے غریب رکشہ ڈرائیور کی 11 سالہ بیٹی ثمن بی بی اور 13 سالہ بیٹی ثانیہ بی بی ،نامی دو کم سن بچیوں کو ۔۔ اسی گاؤں کے رہائشی،دو درندہ صفت اوباش سجاد اور مدثر نے صحن میں سوتی حالت میں منہ پر ہاتھ کر رات 11 بجے اٹھالیا۔۔اور اپنی حویلی میں لیجا کر اپنے بستروں پر لٹا کر زنا بالجبر کرنا شروع کر دیا۔ثانیہ بی بی کو جنسی ہوس کا نشانہ بنانے کے بعد ثمن بی بی کے ساتھ زنا بالجبر کرنے کی کوشش جاری تھی کہ اسی دوران بچیوں کے والد ۔والدہ اور دیگر اہل دیہہ تلاش کرتے کرتے جائے وقوعہ پر پہنچ گئے۔تو ملزمان بچیوں کو چھوڑ کر بھاگ گئے۔15 کی کال پر تھانہ شیخ فاضل کی پولیس موقع پر آئی اور مقدمہ نمبر 153/22 بجرم 376(i) تعزیرات پاکستان کے تحت درج کر لیا۔۔۔۔مگر قانون حرکت میں نہ آسکا۔کیونکہ ملزمان نے تفتشی افسر قاسم علی سب انسپکٹر کو اپروچ کر لیا۔۔۔۔۔جس نے نشاندہی کے باوجود ملزمان کو گرفتار کرنے کی بجائے طمع نفسانی کی خاطر ملزمان کوبروقت گرفتار کرنے کی بجائے، والد کے زخموں پر مرہم لگانے کی بجائے،الٹا مظلوم بچیوں کے والد کو ڈرایا دھمکایا—۔اور ملزمان کو 4 اپریل 2022 تک مہلت دے دی کہ آپ اپنی عبوری ضمانتین کروا لیں۔تین روز تک ملزمان گاؤں میں دندناتے پھرتے رہے۔ ضلع وہاڑی کی تاریخ میں دو کم سن بچیوں کے ساتھ پیش آنے والا یہ والا سنگینی کے لحاظ سے اپنی نوعیت کا پہلا منفرد واقعہ ہےابتدائی میڈیکل رپورٹ سے زیادتی کے شواہد بھی سامنے آچکے ہیں۔۔اس قسم کے ملزمان کسی بھی رعائت کے مستحق نہیں ہیں ۔ایسے لوگوں کو سرعام پھانسی پر لٹکایا جانا،حالات کا بہترین تقاضہ ہے۔مگر افسوس کی بات ہے کہ ایک ایسے تفتیشی افسر کو تفتیش دی گئی ہے۔ جو قابلیت کے لحاظ سے اچھی شہرت کا حامل نہ ہے۔۔جس کی قوت سماعت بھی نہ ہونے کے برابر ہے۔ اس سنگین واقعہ کی درست سمت پر تفتیش کے لیے ایڈیشنل انسپکٹر جنرل پولیس جنوبی پنجاب کو ایک جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم بنانے کی اشد ضرورت ہے اس وقوعہ پر پورا گاؤں غم میں ڈوبا ہوا ہے۔اس واقعہ نے انسانیت کے سر شرم سے جھکا دیئے ہیں۔یوں معلوم ہوتا ہے جیسے حکام بالا نے مظلوموں کی فریاد سننا بند کر دی ہےچیف جسٹس آف پاکستان کو اس، واقعہ کا فوری طور پر از خود نوٹس لینا چاہیے





































Visit Today : 234
Visit Yesterday : 569
This Month : 7409
This Year : 71128
Total Visit : 176116
Hits Today : 1661
Total Hits : 1002427
Who's Online : 5






















