پیٹو بچوں میں اندھا دھند کھانے کا تعلق دماغ سے ہوسکتا ہے
برکلے، کیلیفورنیا: پاکستان اور دنیا میں بعض بچے ہمہ وقت اندھا دھند کھاتے رہتے ہیں اور اب معلوم ہوا کہ نارمل بچوں کے مقابلے میں ان کے دماغ کے خاص گوشے یعنی گرے ایریا میں نمایاں فرق ہوسکتا ہے۔اس ضمن میں یونیورسٹی آف سدرن کیلیفورنیا کے کیک اسکول سے وابستہ ماہر، اسٹوارٹ مرے نے کہا ہے کہ بعض بچے خود پرقابو نہیں رکھ پاتے اور کھاتے پیتے رہتے ہیں۔ ان کے دماغی اسکین سے ظاہر ہوا کہ اس سے دماغ میں نمایاں تبدیلیاں پیدا ہوتی ہیں جسے ایب نارمل تبدیلی بھی کہا جاسکتا ہے۔ اس ضمن میں والدین اور ڈاکٹروں کو اپنا اہم کردار ادا کرنا ہوگا۔جرنل آف سائیکائٹری ریسرچ میں شائع رپورٹ کے مطابق نو یا دس برس کے پیٹو بچوں کے دماغ کا وہ گوشہ متاثر ہوتا ہے جس کا تعلق، فوائد بٹورنے اور اشتہا سے ہوتا ہے غذائی اشتہا یعنی طلب کو روکنے سے ہوسکتا ہے۔ اس کے متاثر ہونے سے معمولات بگڑتے ہیں اور بسیارخوری کی ایسی کیفیت پیدا ہوتی ہے جسے نفسیات داں ایٹنگ ڈس آرڈر کہتے ہیں۔






































Visit Today : 208
Visit Yesterday : 569
This Month : 7383
This Year : 71102
Total Visit : 176090
Hits Today : 1453
Total Hits : 1002219
Who's Online : 3






















