ملتان :  جلالپور پیروالہ کے علاقہ 68ایم کھوہ سیفل والہ کے متاثرہ مکینوں نے مقامی پولیس کی جانب سے تین گھروں پر دھاوا بولنے،مکان گرانے، توڑ پھوڑ کرنے اور خواتین، معصوم بچوں کو شدید تشدد کا نشانہ بنائے جانے اور لاکھوں روپے مالیت و قیمتی اشیاء زبردستی لے جائے جانے کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا جس کی قیادت متاثرہ مکین بیوہ نسیم بی بی، نسرین بی بی،عبد الحمید، سعید، مزمل ارشد چانڈیو نے کی اس موقع پر متاثرین بیوہ نسیم بی بی، نسرین بی بی،عبد الحمید، سعید، مزمل ارشد چانڈیو نے کہا کہ ہماری عرصہ 18سال سے خاندانی دشمنی چل رہی ہے اور خاندان کے افراد بلال احمد نے خاندان کے بزرگ حاجی غلام فرید کو قتل کیا اور بلال احمد، ارشاد احمد کھپرا گینگ کے نام سے مشہور گئے انہوں نے الزام عائد کیا مقامی پولیس خاندانی دشمنی کا فائد ہ اٹھا کر آئے روز ہمارے گھروں میں زبردستی چادر و چار دیواری کا تقدس پامال کرتے ہوئے ہمیں حراساں وپریشان کر رہی ہے 22 جنوری کو مقامی تھانہ پولیس لودھراں، جلالپور پیروالہ نے علی الصبح شدید سردی میں ہمارے تین گھروں میں دھاوا بول دیا اور خواتین، بچوں کو شدید تشدد کا نشانہ بنایا یہاں تک کہ تینوں گھروں میں توڑ پھوڑ کی اور گھروں کی دیواریں توڑ دیں، دروازے توڑ دیئے جبکہ نسرین بی بی کے گھر کے واحد کمرے کو گرادیا اور گھروں سے بکریاں، مرغیاں سمیت بیوہ نسیم بی بی کے گھرسے زمین کی خرید کے لئے گھر میں پڑی نقدی بھی اٹھا لی، خواتین، بچوں کو شدید تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور ہمیں جان سے ماردینے کی کوشش کی جس کی وجہ سے ہم نے بھاگ کر جان بچائی اور پولیس کے خوف سے ہم گھروں کی بجائے چھپ کر شدید سردی میں مصوم بچوں کے ساتھ رات گزارنے پر مجبور ہیں ہم لاوارثوں کی طرح زندگی بسر کر رہے ہیں اگر ہمارے خلاف کوئی مقدمہ ہے تو ہم حاضر ہیں لیکن قتل کرنے والے ملزمان کے گھروں کے ساتھ بھی ایسا سلوک نہیں کیاجاتا جیسے ہمارے ساتھ سلوک کیا جارہا ہے اس موقع پر مزمل ارشد چانڈیو نے کہا کہ پنجاب کے بڑے ضلع ملتان کے دیہی علاقہ میں ہم مقبوضہ کشمیر کی طرح زندگی بسر کر رہے ہیں جہاں پر آئے روز پولیس ہمیں شدید تشدد کا نشانہ بناتی ہے اور اس طرح لوٹ مار کرتی ہے جیسے کلاچی خاندان کے غریب مکین دہشت گرد ہیں ہماری آپس کی خاندانی دشمنی عرصہ دراز سے چل رہی ہے ریاست مدینہ کے دعویدار حکمرانوں نے سنجیدگی سے نوٹس نہ لیا تو ہم اسلام آباد پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے اجتماعی خود سوزی پر مجبور ہو جائیں گے جس کے ذمہ دار وفاقی و صوبائی حکمران ہوں گے انہوں نے چیف جسٹس آف پاکستان، وزیراعظم، وزیراعلی پنجاب،آئی جی، ایڈیشنل آئی جی ساؤتھ پنجاب، آر پی او، سی پی او ملتان سے مطالبہ کیا ہے کہ ہمیں جان و مال کا تحفظ فراہم کیاجائے اور ذمہ دار پولیس افسران و اہلکاروں کے خلاف کاروائی کی جائے اور گھروں سے لوٹ مار کا مال برآمد کیاجائے اور ہمارے نقصان کا ازالہ کیاجائے بصورت دیگر وہ کچہری چوک پر مجبور ہوجائیں گے۔