ملتان:  مسلم سٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے ناظم اعلیٰ ارسلان کیانی نے کہا ہے کہ غزہ کے لیے آواز اٹھانے پر نہتے طلباء پر اسلام آباد پولیس کا دہشت گردی کی ایف آئی آر کی شدید مذمت کرتے ہیں ہم پرامن اور محب وطن شہری ہیں حکومت راست اقدام اٹھانے پر مجبور نہ کرے۔من گھڑت ایف آئی آر ختم کر کے بے گناہ مظلوم طلبہ کو رہا نہ کیا گیا پورے ملک میں احتجاجی تحریک شروع کر دیں گے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ایک اہم ہنگامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا انہوں نے مزید کہا کہ مسلم سٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان ملک کے سب سے بڑی ،منظم اور محب وطن طلبہ کی تنظیم ہے جو گزشتہ 3دہائیوں سے میدان عمل میں ہے اور غلبہ اسلام و استحکام پاکستان کیلئے نوجوان کی تربیت سازی میں مصروف عمل ہونے کے ساتھ ساتھ انٹرنیشنل سطح پر مسلمانوں پر ہونے والے مظالم بالخصوص فلسطین کاز پر مسلسل آواز اٹھا رہی ہے اور اس عنوان پر اسلام آباد کنونشن سینٹر سمیت لاہور، کراچی،ملتان سمیت دیگر شہروں میں بڑے بڑے پرامن اجتماعات منعقد کر چکی ہے جو آن ریکارڈ ہیں جن سے جہاں مظلوم فلسطینیوں کی آواز دنیا تک پہنچی وہی پر اسلامی دنیا میں پاکستان کا وقار بھی بلند ہوا ہے اسلام آباد انتظامیہ نے بدترین فسطائیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے پولیس گردی کی اور MSO کے مرکزی ذمہ داران برادر سردار مظہر ،بلال ربانی سمیت درجنوں کارکنوں کے علاؤہ خواتین اور دیگر طلبہ تنظیموں کے نہتے کارکنان پر شدید تشدد کیا اور پھر ان کو زبردستی اٹھا کر پولیس وین میں ڈالا گیا ناظم اعلیٰ کا مزید کہنا تھا فلسطین کے حق میں اور اسرائیل کے خلاف ملک پاکستان میں آواز اٹھانا اتنا بڑا جرم بن گیا کہ دن دیہاڑے پرامن نہتے کارکنان اور خواتین پر تشدد کیا گیا اور پھر گرفتار کر کے دہشت گردی کے پرچے دئیے گئے حکومت جواب دے کہ فلسطین کے حق میں آواز اٹھانا دہشت گردی ہے