ملتان(صفدربخاری سے) گرینڈ ٹیچرز الائنس ضلع ملتان کے زیر اہتمام سرکاری تعلیمی اداروں کی این جی اوز کے ٹھیکے داروں کو حوالگی،لیو انکیشمنٹ،پنشن کے نئے کالے قوانین کا خاتمہ، تعلیمی اداروں کی بحالی سمیت دیگر مطالبات کے حق میں سڑکوں پر نکل ائی گلشن مارکیٹ کے تاجران بھی اساتذہ کے ساتھ کھڑے ہو گئے جس میں انجمن تاجران گلشن مارکیٹ کے صدر راؤ لیاقت علی نے عہدے داران کے ہمراہ اساتذہ کی ریلی میں شرکت کی جبکہ سول سوسائٹی بھی شامل ہو ئی احتجاجی ریلی جامع العلوم ہائی سکول سے گلشن مارکیٹ مدنی چوک تک احتجاجی ریلی نکالی اور دو گھنٹے تک احتجاج جاری رہا احتجاجی مظاہرے کی قیادت اساتذہ رہنماؤں عابدسیال،حافظ محمد سلیم،چوہدری مسعود گجر،بلال ملنہانس،راؤ محمد اجمل،راو قمر اقبال،عابد حسین،رانا اسلم ساغر،چوہدری ذوالفقار نے کی جبکہ احتجاجی مظاہرے میں سرکاری تعلیمی اداروں کے اساتذہ،تاجر رہنماؤں اور سول سوسائٹی سمیت محمود الحسن،ملک نذر محمد چن،ذوالفقار احمد سیفی،چوہدری سعید گجر، راؤ اشرف،احسن جاوید،عابد حسین کھچی،عدیل قریشی،چوہدری ذوالفقار،اقبال جاوید،اختر محمود چیمہ،ریاض آصف،شاہد اشرف،عبدالخالق انصاری،چوہدری خالد سندھو،شوکت اشفاق،نوید اقبال،عامر جیلانی،محمد فرحان انصاری،قاری غلام شبیر سواگی سمیت دیگر اساتذہ نے کثیر تعداد میں شرکت کی اور اس موقع پر ٹی این اے ٹیسٹ کے بائیکاٹ کا اعلان کر دیا اس موقع پر اساتذہ و تاجر رہنماؤں کا کہنا تھا کہ سرکاری تعلیمی اداروں کو این جی اوز کے ٹھیکے داروں کے حوالے کسی صورت نہیں کریں گے اس لیے حکومت پنجاب یہ فیصلہ واپس لے اور اپنے فیصلے پر نظر ثانی کرے لیو انکیشمنٹ اور پنشن کا کالا قانون ختم کیا جائے،اے ای او، ایس ایس ای کی مستقلی اور سترہ اے کے قانون کو بحال کیا جائے اسی طرح پے پروٹیکشن کو بھی بحال کیا جائے اور صوبائی قائدین رانا لیاقت علی، کاشف شہزاد، سید مدثر شاہ کی ملازمت پر بحالی کی جائے صوبائی حکومت انتقامی کاروائیوں کی بجائے اپنی ذمہ داریاں پوری کرے اور اساتذہ کے وقار کو مجروح نہ کرے اور اپنی ذمہ داریوں سے فرار حاصل نہ کرے جس کی وجہ سے آج صرف اساتذہ ہی نہیں بلکہ عام شہری بھی پریشان ہے اگر اساتذہ کے جائز مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو اساتذہ صوبہ بھر میں تاجر،وکلاء،ایپکا،سول سوسائٹی اور دیگر شعبہ ہائے زندگی سے وابستہ نمائندگان کے شانہ بشانہ بھرپور احتجاجی تحریک چلانے پر مجبور ہو جائیں گے اور مطالبات تسلیم نہ ہونے پر اسلام اباد بھی دھرنا دینا پڑا تو دھرنا دیں گے۔