یوم وفات و یوم شہادت
شہنشاہ خطابت علامہ حافظ القاری
خادم حسین رضوی…………..ایم ایس اطہر قریشی
پاکستانی سنی عالم اور سیاستدان،تحریک لبیک پاکستان کے بانی

علامہ خادم حسین رضوی (22 جون 1966 نکہ کلاں پنڈی گھیب پیدا ہوئے ) بریلوی مکتب فکر کے عالم دین اور مذہبی سیاسی جماعت تحریک لبیک پاکستان کے بانی تھے۔ سیاست میں آنے سے قبل خادم حسین لاہور میں محکمہ اوقاف کی مسجد میں خطیب تھے۔ ممتاز قادری کی سزا پر عملددرآمد کے بعد انھوں نے کھل کر حکومت وقت پر تنقید کی، جس کی پاداش میں محکمہ اوقاف نے ان کو ملازمت سے نکال دیا۔

حافظ خادم حسین رضوی
تعلیمی اسناد
*درس نظامی ، حافظ قرآن


پیدائش
خادم حسین رضوی 3 ربیع الاول، 1386ھ بمطابق 22 جون، 1966ء کو ضلع اٹک کی تحصیل پنڈی گھیب کے گاؤں “نکہ کلاں” میں حاجی لعل خان اعوان کے ہاں پیدا ہوئے۔تعلیم و تربیت خادم حسین رضوی نے ابتدائی تعلیم میں چوتھی کلاس تک اپنے گاؤں نکا کلاں کے اسکول سے حاصل کی کی۔ اس کے بعد دینی تعلیم کے لیے ضلع جہلم چلے گئے اس وقت ان کی عمر بمشکل آٹھ سال ہی تھی اور یہ 1974 کی بات ہے۔ جب خادم حسین اکیلے جہلم پہنچے تو اس وقت تحریک ختم نبوت اپنے عروج پر تھی اور اس کی وجہ سے جلسے جلوس اور پکڑ دھکڑ کا عمل چل رہا تھا۔ جہلم میں علامہ صاحب کے گاؤں کے استاد حافظ غلام محمد موجود تھے جنھوں نے انھیں جامعہ غوثیہ اشاعت العلوم عید گاہ لے گئے۔ یہ مدرسہ قاضی غلام محمود کا تھا جو پیر مہر علی شاہ کے مرید خاص تھے۔ وہ خود خطیب و امام تھے اس لیے مدرسہ کے منتظم ان کے بیٹے قاضی حبیب الرحمن تھے۔ مدرسہ میں حفظ قرآن مجید کے لیے استاد قاری غلام یسین تھے جن کا تعلق ضلع گجرات سے تھا اور وہ آنکھوں کی بینائی سے محروم تھے۔ خادم حسین نے قرآن مجید کے ابتدائی بارہ سپارے جامع غوثیہ اشاعت العلوم میں حفظ کیے اور اس سے آگے کے اٹھارہ سپارے مشین محلہ نمبر 1 کے دار العلوم میں حفظ کیے۔ اس کی وجہ کچھ یوں بنی کہ مدرسہ میں موجود نکا کلاں کے ایک طالب علم گل محمد نے کسی بات پر باورچی کو مارا تھا اور باورچی کو اچھی خاصی چوٹیں آئیں۔ اس وجہ سے گل محمد کو مدرسہ سے نکال دیا گیا جس کی وجہ سے نکا کلاں کے استاد حافظ غلام محمد نے اپنے لائے تمام طلبہ جن کی تعداد اکیس تھی نکال کر مشین محلہ نمبر 1 پر واقع دار العلوم میں داخلہ دلا دیا جن میں خادم حسین بھی شامل تھے۔ آپ کو قرآن پاک حفظ کرنے میں چار سال کا عرصہ لگا۔ جب آپ کی عمر بارہ برس ہوئی تو دینیہ ضلع گجرات چلے گئے اور وہاں دو سال قرأت کی تعلیم حاصل کی۔ قرأت کی تعلیم حاصل کرنے کے بعد 1980ء میں مزید تعلیم حاصل کرنے کے لیے لاہور چلے گئے۔ وہاں آپ نے شہرہ آفاق دینی درسگاہ جامعہ نظامیہ لاہور میں درس نظامی کی تعلیم حاصل کی۔ [6] لاہور مدرسہ میں آٹھ سال تعلیم حاصل کرنے کے بعد 1988ء میں فارغ التحصیل ہو گئے تھے۔ قرآن پاک حفظ کرنے کے علاوہ درس نظامی اور احادیث پڑھیں۔
۔ اساتذہ سے تعلیم حاصل کی:

1۔مفتی محمد عبد القیوم ہزاروی:(ترمذی شریف)

2۔مفتی محمد عبد اللطیف نقش بندی:(مسلم شریف،ابو دائود شریف)

3۔علامہ محمد رشید نقش بندی:(کنزالدقائق،قصیدہ بردہ شریف)

4۔علامہ عبد الحکیم شرف قادری:(بخاری شریف)

5۔علامہ حافظ عبد الستار سعیدی

6۔علامہ محمد صدیق ہزاروی

1988ء میں دورۂ حدیث مکمل ہوا اور دستارِ فضیلت عطا کی گئی۔

سرکاری ملازمت و برطرفی
علامہ حافظ خادم حسین رضوینے 1990 ء میں جامعہ نظامیہ رضویہ میں” علمِ صرف “کا درس دینا شروع کیا۔ 1993ء میں محکمۂ اوقاف لاہور کی طرف سے دربار سائیں کانواں والے ،گجرات میں خطابت و امامت کے لیے آپ کا تقرر ہوا۔ بعد ازاں دربار حضرت شاہ ابوالمعالی کی مسجد میں تبادلہ ہوا۔ وہاں حکومتی پالیسیوں پر تنقید کی وجہ سے چار ماہ کے لیے معطل کر دیے گئے۔اس کے بعد بحال ہو کر پیر مکی صاحب لاہور کی مسجد میں فرائض انجام دینے لگے۔ اسی دوران آمر حکمران پرویز مشرف کے دور میں مشرف کی اسلام دشمن پالیسیوں کے نتیجے میں شروع ہونے والی نظام مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تحریک میں آپ نے بھرپور شرکت فرمائی اور 2006 میں اسیری بھی کاٹی۔ پیر مکی مسجد میں بطور خطیب اپنے فرائض کی انجام دہی کے دوران علامہ حافظ خادم حسین رضوی حکومت کی اسلام پالیسیوں پہ کھلے عام تنقید کیا کرتے تھے۔ جب ملک ممتاز حسین قادری نے گستاخ رسول ملعون سلمان تاثیر کو واصل جہنم کیا تو علامہ حافظ خادم حسین رضوی نے مسجد سے سرکاری پلیٹ فارم سے کھل کر ممتاز حسین قادری کے اس اقدام کی حمایت کی اور خراج تحسین پیش کیا جس کے نتیجہ میں محکمہ اوقاف نے انھیں ملازمت سے برطرف کر دیا۔ بعد ازاں محکمہ اوقاف حکومتی پالیسیوں پہ تنقید ترک کر دینے کی صورت میں آپ کو ملازمت کی بحالی کی یقین دہانی کروائی مگر آپ نے سرکاری ملازمت کو ٹھکرا دیا

بیعت و خلافت
روحانی طور پر خادم حسین سلسلہ نقشبندیہ میں خواجہ محمد عبد الواحد المعروف حاجی پیر صاحب کالا دیو، ضلع جہلم کے مرید تھے۔

سر پرست و نگران
خادم حسین رضوی دو عشروں سے جامعہ نظامیہ رضویہ میں تدریس کر رہے تھے۔اس کے علاوہ فدایان ختم نبوت پاکستان اور مجلس علما نظامیہ کے مرکزی امیر رہے۔ دار العلوم انجمن نعمانیہ سمیت کئی مدارس، تنظیمات اور اداروں کے سر پرست و نگران رہے۔ [7]

تحریک لبیک پاکستان
ستمبر 2017 میں تحریک کی بنیاد رکھی اور اسی برس ستمبر میں این اے 120 لاہور میں ہونے والے ضمنی انتخاب میں سات ہزار ووٹ حاصل کر کے سب کو حیرت میں ڈال دیا۔

معذوری
2009ء میں پیش آنے والے ایک حادثے میں وہ معذور ہو کر وہیل چیئر تک محدود ہو گئے ۔ واقع کچھ یوں ہے کہ مولانا خادم حسین رضوی کے بڑے بھائی امیر حسین رضوی گاؤں میں مسجد تعمیر کروا رہے تھے تو وہ اس سلسلے میں 2009ء میں اپنے گاؤں جانے کے لیے سفر پر روانہ ہوئے ، راستے میں ڈرائیور کو نیند آ گئی اور ایک موڑ سے گاڑی نیچے جا گری ، اس حادثے میں مولانا خادم حسین رضوی کے سر اور ریڑھ کی ہڈی پہ شدید چوٹیں آئیں جس کے باعث ان کے جسم کا نچلا حصہ معذور ہو گیا۔

حافظ محمد سعد حسین رضوی
حافظ محمد انس
دونوں بیٹے حافظ قرآن ہیں اور درس نظامی کا کورس مکمل کر چکے ہیں
جب کہ علامہ خادم حسین رضوی پچھلے دور حکومت میں 2017 سے 2019 تک نمایاں کردار ادا کرنے میں کامیاب ہوئے اور اپ علامہ حافظ القاری مولانا شاہ احمد رانی صدیقی رحمت اللہ علیہ کی سیاست کو پروان چڑھاتے ہوئے نظام مصطفی کا عملی نفاذ ملک میں چاہتے تھے
ڈاکٹر علامہ اقبال پر اپنی ذات میں خود پی ایچ ڈی مکمل کیا ہوا تھا اور عشق مصطفی کی شمع نوجوانوں میں بھرپور انداز میں روشن کرنے میں اہم کردار ادا کیا
علامہ خادم حسین رضوی کی قیادت میں فیض اباد کے کامیاب دھرنے کے بعد ملک کے طول و عرض میں ہر طرف لبیک لبیک یا رسول اللہ کے نعرے کی صدائیں گونجنا شروع ہوئیں جو کہ تا وقت تحریر جاری ہیں
علامہ صاحب ایک منفرد انداز کے عظیم مقرر تھے اور اپنی گفتگو میں ڈاکڑ علامہ اقبال کے اشعار کا کثرت سے استعمال کیا کرتے تھے
ان تقاریر کے دوران مجمع پر سکتہ طاری ہو جایا کرتا تھا اور ایسا لگتا تھا کہ جو کچھ وہ کہہ رہے ہیں بس اب ویسا ہی ہونے جا رہا ہے
انہوں نے وقت کے طاقتور ترین جرنیلوں اور سیاست دانوں کو ہمیشہ اپنے مخصوص انداز میں للکارا اور وہ ہمیشہ کامیاب بھی رہے
حکومت عمران نیازی نے ان کو فیض اباد دھرنے کے بعد پابند سلاسل کر دیا اور اتنا تشدد کیا کہ وہ چند دنوں بعد اس دنیائے فانی سے اپنےچاہنے والے شمع رسالت کے پروانوں محمد عربی کے غلاموں کو روتا بلکتا سسکتا چھوڑ کر خالق حقیقی سے جا ملے
علامہ قادر حسین رضوی کا جنازہ پاکستان کی ان چند عظیم شخصیتوں کے جنازے جن میں قائد اعظم محمد علی جناح رحمۃ اللہ علیہ اور قائد ملت اسلامیہ قائد اہل سنت مولانا شاہ احمد نورانی اور ممتاز قادری سر فہرست شامل ہیں سے بڑا جنازہ ثابت ہوا
اپ کی رحلت کے بعد اس دنیا سے پوچھ کر جانے کے بعد اپ کے بڑے صاحبزادے سعد احمد رضوی صاحب کو تحریک لبیک کا امیر منتخب کر لیا گیا

تصنیفات
تیسیر ابواب الصرف
تعلیلات خادمیہ
وفات 19 نومبر کو 2020 چار ربیع الثانی ان کا مزار لاہور میں ہے