ملتان (صفدربخاری سے) امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے ملتان میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ بد قسمتی سے سیاسی جماعتیں اپنے کاموں میں لگی ہوئی ہیں،کسی کا ایجنڈا عوام نہیں۔حکمران آئی ایم ایف کا کہہ کر مہنگائی بڑھاتے ہیں،ظلم کا نظام اور اشرافیہ کی مراعات ختم ہونی چاہیے۔پاکستان بھر میں عوامی رابطہ مہم تیز کر رہے ہیں،12 جولائی کو عوام کے حقوق کے لیے دھرنا دے رہے ہیں۔جاگیرداراور وڈیرے ٹیکس نہیں دیتے جبکہ تنخواہ دار طبقے کو تختہ مشق بنایا گیا ہے۔آئی ایم ایف کے بجٹ کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہیں،حکومت کو ہر صورت میں بجلی کے بلوں میں کمی اور ظالمانہ ٹیکسز کو واپس لینا ہو گا۔جنوبی پنجاب کے کاشتکاروں کو تباہ کیا گیا،حکومت کسانوں سے گندم خریدنے سے انکار کرتی رہی اور اب آٹے کا بحران پیدا ہوا۔شوگر ملز گنا خریدنے کے بعد کسانوں کو پیسے نہیں دیتی۔صوبے کے نام پر جنوبی پنجاب کے کسانوں کا استحصال کیا گیا۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے ملتان میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔اس موقع پرامیر جماعت اسلامی پنجاب جنوبی راؤ محمد ظفر،سیکرٹری جنرل صوبہ پنجاب جنوبی صہیب عمار صدیقی اورامیر ضلع ڈاکٹر صفدر اقبال ہاشمی بھی موجود تھے۔ حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ حکمران عوام کے نہیں ہمیشہ اپنے بارے میں سوچتے ہیں،حکومت آئی ایم ایف کے حکم پر آئے روز بجلی مہنگی کررہی ہے۔ یہ لوگ سمجھتے ہیں کہ لندن امریکہ دبئی بھاگ جائیں گے جب عوام نکلتے ہیں تو ائیرپورٹ کا راستہ بھی نہیں ملتا۔ جاگیردار اور وڈیرے ٹیکس نہیں دیتے،375 ارب روپے تنخواہ دار دے رہے ہیں جبکہ جاگیردار صرف 5 ارب دے رہے ہیں۔ اشرافیہ کو ملک پر مسلط کرکے مقاصد حاصل کیے جارہے ہیں، سول اور فوج کے لوگ پلاٹ خریدیں اور بیچیں تو ٹیکس نہیں دیں گے جبکہ عام آدمی بجلی،پانی اور گیس جیسی بنیادی ضروریات پر بھی ٹیکس دیں۔حالیہ بجٹ پاکستانی عوام کا نہیں بلکہ آئی ایم ایف اور اشرافیہ کا بجٹ ہے۔کاروباری لوگ صنعتیں منتقل کررہے ہیں،نوجوان پاکستان چھوڑ کر بیرون ملک جانا چاہ رہا ہے۔ امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ فارم 47 کی حکومت عوام کی نہیں بلکہ مسلط کردہ حکومت ہے ججز فارم 45 کے مطابق فیصلے کریں۔ فوجی آپریشن کی کسی صورت حمایت نہیں کرسکتے اس سے نفرتیں بڑھتی ہیں، ہمارا دھرنا عوام کو ریلیف دلوانے کے لیے ہے، مطالبات تسلیم ہونے تک دھرنا جاری رہے گا۔پی ڈی ایم ٹو کو مسلط کردیا گیاملک کے چھوٹے کاشتکاروں کو تباہ کردیاگیا ہے، حکومت کسانوں سے گندم خریدنے سے انکار کرتی رہی اور اب ملک میں آٹے کا بحران سر اٹھا رہا ہے،گندم سکینڈل میں ملوث کسی کے خلاف کاروائی نہیں ہوئی۔گنے کے کا شتکار پس گئے ہیں شوگر ملز گنا خریدنے کے بعد کسانوں کو پیسے نہیں دیتیں اور یہ ملیں زیادہ تر حکومت میں بیٹھے ہوئے لوگوں کی ہیں، انہوں نے کہا کہ زراعت ملکی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی تھی،مگر اب اسے تباہ کیا جارہا ہے، امسال کپاس 25 فی صد کم کاشت ہوئی، ، 12 ہزار ارب ڈالر سے دبئی میں جائیدادیں خریدی گئیں مگر کسی کے خلا ف کوئی کاروائی عمل میں نہیں لائی گئی حافظ نعیم الرحمن نے مطالبہ کیا کہ جن لوگوں نے بیرون ممالک جائیدادیں خریدیں ہیں ان سے منی ٹریل لی جائے یہ نااہل اور کرپٹ مافیا ہے جو 70 سالوں سے ملک کو لوٹ رہے ہیں۔عوام کو ریلیف دینے کے لیے حکومت کبھی سنجیدہ نہیں ہوئی، جماعت اسلامی یوتھ کے لیے بہت سنجیدہ ہے۔بنو قابل کے پلیٹ فارم سے ملک بھر میں آئی ٹی کورسز کروارہے ہیں تاکہ نوجوان پیسہ کما سکیں،لیپ ٹاپ دینے سے کچھ نہیں ہوتا ہنر سیکھانا چاہیے۔خفیہ ہاتھ سب کو نظر آرہے ہیں اسٹبلشمنٹ کو ہر جگہ برا بھلا کہا جارہا ہے ہر پاکستانی کو دھرنے میں شرکت کی دعوت دیتا ہو ں۔جماعت اسلامی کے پلیٹ فارم سے یہ دھرنا ہوگا کسی جماعت کو ساتھ نہیں ملا رہے تاکہ لوگوں میں غلط فہمیاں پیدا نہ ہو۔، حق دو عوام کوتحریک پاکستان کے عام آدمی کے حقوق کے لیے جدوجہد کرے گی۔ملک کو اشرافیہ کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑ سکتے۔بارہ جولائی کو اسلام آباد میں کرپٹ اور ظالم اشرافیہ کے خلاف جبکہ عام آدمی کی حقوق کی ترجمانی کے لئے دھرنادے رہے ہیں۔ایک صحافی کے سوال کا جواب دیتے ہوئے حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ ابھی ہم نے بیٹھنے کا اعلان کیا ہے اٹھنے کا نہیں،اسلام آباد جائیں اور وہی دیگر معاملات پر بات کریں گے۔تحریک کاآغاز ہو چکا ہے اس میں پہلے عوام کو ریلیف دینا ہے اس کے بعد یہ تحریک آئین کی بحالی کے لیے جاری رہے گی۔ماضی میں ویڈیوز دیکھا کر بلیک میل کیا جاتا رہا ہے، اچھی بات ہے ججز کے فیصلے بولنے چاہیے، تاکہ آئین اور قانون کی بالادستی قائم ہو ۔پاکستان کے پاس سب سے بڑا اثاثہ نوجوان ہے فوجی آپریشن کی حمایت نہیں کرسکتے اس کے نتیجے میں عوام اور فوج میں نفرت بڑھتی ہے تمام حلقوں کو سمجھنا چاہیے کہ یہ نفرتیں اور دوریاں بڑھتی ہیں اور لوگ دور مکمل کرکے چلے جاتے ہیں