اسلام آباد:  بانی پی ٹی آئی عمران خان اور بشریٰ بی بی کی عدت میں نکاح کیس میں سزا معطلی کی درخواست مسترد کر دی گئی۔ ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج محمد افضل مجوکا نے بانی چیئرمین پی ٹی آئی اور بشریٰ کی سزا معطلی پر فیصلہ سنایا۔ عدالت نے دن تین بجے فیصلہ سنانے کا وقت مقرر کر رکھا تھا۔ عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کیا تھا۔ عدالت نے 10 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ بھی جاری کر دیا ہے۔ تحریری فیصلے کے مطابق دونوں ملزمان کے پاس سزا معطلی کا کوئی جواز موجود نہیں، بشریٰ بی بی کا خاتون ہونا سزا معطلی اور ضمانت پر رہائی کا جواز نہیں لہٰذا بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی سزا معطلی کی درخواستیں مسترد کی جاتی ہیں۔ سزا معطلی یا ضمانت پر رہائی کی درخواستوں پر سماعت کے دوران مقدمے کے میرٹس پر بات نہیں کی جا سکتی، دونوں ملزمان کو دی گئی سزا نہ تو قلیل مدتی ہے اور نہ ہی وہ سزا کا زیادہ حصہ بھگت چکے ہیں۔ عدالت نے پاکستان کریمنل لاجرنل میں موجود محمد ریاض بنام سرکار کیس کا حوالہ دیا۔ فیصلے میں کہا گیا کہ محمد ریاض بنام سرکار کیس کے فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ضمانت انڈر ٹرائل ملزم کا حق ہے، سزا یافتہ کا نہیں۔ بانی پی ٹی آئی عمران خان اور بشریٰ بی بی نے سزا معطل کرکے ضمانت پر رہائی کرںے کی درخواست دائر کر رکھی تھی۔