ملتان (صفدربخاری سے) اولیاء اللہ کے شہر ملتان کے برطانیہ دورکے قدیمی و مرکزی امام بارگاہ کے لائسنس داران شاہ زیب حسن (اُستاد والا) خواجہ اشرف صدیقی (متولی سلطا ن والا)ملک عابد بھٹہ (عنایت ولایت والا) محمد سجاد نمبردار (برخور نمبردار والا) محمد ندیم (درکھانہ والا) محمد بدر اعجاز(جال موسی) فراست حسین صدیقی (جوادیہ جھک) غلام عباس دولہ(کپڑی پٹولیاں) محمد جمیل (تھلہ وارث شاہ کمنگراوالا)حسن جاوید (سلطا ن والا) نقاش اشرف(ابوالفضل عباس) عامر رضا جعفری (داودحقانی) سید اظہرعباس شاہ (پیربوگھے شاہ) عون رضا شاہ، محمد مظہر انصاری ودیگر نے مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے دو ٹوک اور واضح انداز میں کہا ہے کہ ماہ محرم الحرام مذہبی تہوار ہے جس کی آمد پر سرکاری سطح پر سیکورٹی سمیت مجالس عزا و ماتمی جلوسوں کے راستوں پر سٹریٹ لائٹس،ٹوٹ پھوٹ کا شکار سڑکات و گلیات کی تعمیر،سیوریج نظام کی درستگی،پینے کا ٹھنڈا پانی سمیت عزاداران حضرت امام حسین کے باقاعدہ معمولات کو دیکھتے ہوئے ضلعی انتظامیہ،میونسپل کارپوریشن ودیگر متعلقہ محکمہ جات مکمل تعاون کرتے ہیں لیکن ڈویژنل و ضلعی انتظامیہ کا رویہ لائسنس داروں کے ساتھ تعاون کرنے کی بجائے انتہائی نامناسب ہے جس نے محرم الحرام کی آمد کے پیش نظر بعد میں جلوس روٹس پر سڑکات و گلیات کی تعمیر،پیچ ورک،سٹریٹ لائٹس سیوریج نظام کی درستگی سمیت دیگر مسائل کے حل کے لیے ترقیاتی بجٹ رکھنے کے لیے اخبار اشتہار کے مطابق جو ٹینڈر دیے اسے لائسنس داران مکمل طور پر مسترد کرتے ہیں کیونکہ یہ ٹینڈرز لائسنس داران کے ساتھ سنگین مذاق ہے جو کسی صورت قابل قبول نہیں ہے کیونکہ برطانیہ دور کے قدیمی امام بارگاہ استاد والہ، امام بارگاہ شاہ گرد والہ، امام بارگاہ سلطان والہ سمیت بہت سے امام بارگاہوں کے روٹس جلوس کی مرمت کے لئے کوئی فنڈز ان ٹینڈرز میں مختص نہیں کئے گئے تاہم جن امام بارگاہوں کے لئے ان ٹینڈرز کے مطابق جو ترقیاتی فنڈز رکھے گئے ہیں ان سے ایک گلی میں دو بلب بھی نہیں لگ سکتے اس حوالے سے جب ہم نے ضلعی انتظامیہ سے رابطہ کیا تو ان کا ایک ہی جواب ملا کہ ان کے پاس فنڈز نہیں ہیں ایسے حالات میں ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ وزیراعلی پنجاب مریم نواز شریف ایسی غیر سنجیدہ صورتحال کا فی الفور نوٹس لیں اور لائسنس داران کے تحفظات دور کیے جائیں اگریکم محرم تک ہمارے روٹس جلوسوں پر ترقیاتی کام مکمل نہ کرائے گئے تو بصورت دیگر م لائسنس داران ماتمی جلوس جلوس روٹس پر روک دیں گے اور احتجاج کے طور پر تمام تر مجالس عزا امام بارگاہوں کی بجائے چوکوں پر شروع کی جائیں گی قدیمی و مرکزی امام بارگاہوں سے ماتمی جلوس ومجالس عزا گزشتہ 3 سو سالوں سے چلے آرہے ہیں اور ہر حکومت کے دور میں نواسہ رسول حضرت امام حسین اور ان کے ر فقائے کار کی شہادت کے موقع پر ضلعی انتظامیہ کی جانب سے لائسنس داروں کو درپیش مسائل کے حل کیے جاتے ہیں مگرضلعی انتظامیہ کی جانب سے مسائل کے حل کی بجائے ہٹ دھرمی کا مظاہرہ افسوس ناک عمل ہے حالانکہ حسب روایت لائسنس داروں کو درپیش مسائل کے حل کے لیے ضلعی انتظامیہ کو سنجیدگی سے ذمہ دارانہ کردار ادا کرنا چاہیے لیکن افسوس کہ ماہ محرم الحرام کی آمد میں چند روز باقی ہیں مگر ابھی تک ضلعی انتظامیہ نے ماتمی جلوسوں کے روٹس کا معائنہ تک نہیں کیا بلکہ سیکورٹی کے انتظامات بھی تاحال دیکھنے میں نہیں آ رہے انہوں نے کہا کہ ملکی حالات خطرناک حد تک پہنچ چکے ہیں اور دہشت گردی کے خطرات بھی سروں پر منڈلا رہے ہیں جس کی وجہ سے پہلے ہی ہماری پاک فوج نے امن قائم رکھنے کے لیے باقاعدہ دہشت گردوں کو کچلنے کے لیے آپریشن استحکام پاکستان شروع کر دیا ہے اور ہماری پاک فوج انشائاللہ بہت جلد اس آپریشن میں کامیاب ہوگی اور ہم سب ان کے لیے دعا گو بھی ہیں اسی طرح کے خطرات ماہ محرم الحرام کے مقدس مہینے کے موقع پر لائسنس داروں کے سروں پر بھی منڈلا رہے ہیں لیکن حیران کن صورتحال یہ ہے کہ ضلعی انتظامیہ لائسنس داروں کے مسائل کے حل میں نہ جانے کن وجوہات کی بنا پر سنجیدگی اختیار نہیں کر رہی ضلعی انتظامیہ کو چاہیے کہ وہ فوری  جلوسوں کے راستوں کامعائنہ کر کے باقاعدہ ہر سال کی طرح اس مرتبہ بھی عزاداران حضرت امام حسین کی حفاظت،ماتمی جلوسوں کے راستوں پر ٹوٹ پھوٹ کا شکار سڑکات و گلیات کی تعمیر،پیچ ورک،سٹریٹ لائٹس،صفائی و ستھرائی کے انتظامات کو یقینی بنانے،سیویج نظام کی درستگی،ٹھنڈے پانی کی سبیلیں لگانے اور متعلقہ سرکاری محکموں کے افسران کی ڈیوٹیاں لگائی جائیں لیکن افسوس کی بات ہے کہ تا حال ضلعی انتظامیہ ابھی تک سنجیدگی سے کوئی نوٹس نہیں لے رہی ہے جس کی وجہ سے لائسنس داروں میں تشویش کی لہر پائی جاتی ہے دوسری جانب ماتمی جلوسوں کے راستے گلیاں اندھیرے میں ڈوبے ہوئے ہیں جس کی وجہ سے خدانخواستہ کوئی سانحہ رونما ہو سکتا ہے انہوں نے کہا کہ مجالس عزا و ماتمی جلوس باقاعدہ قانونی اور لائسنس کے مطابق ہوتے ہیں جس کا قانون بھی موجود ہے اور یہ ضلعی انتظامیہ سمیت متعلقہ اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ جلوس روٹس کی مرمت اور سیکورٹی کے انتظامات کو یقینی بنائے اور دیگر مسائل حل کیے جائیں انہوں نے کہا کہ تمام لائسنس داران خاموشی سے ضلعی انتظامیہ کی خاموشی دیکھ رہے ہیں اگر محرم الحرام سے پہلے ضلعی انتظامیہ نے مسائل حل نہ کیے اور اگر کوئی سانحہ یاد دہشت گردی جیسا واقعہ رونما ہوا تو اس کی ذمہ دار ی ضلعی انتظامیہ پر عائد ہوگی انہوں نے وزیراعلی پنجاب،چیف سیکرٹری پنجاب، ائی جی پنجاب،گورنر پنجاب،ایڈیشنل ائی جی ساؤتھ پنجاب،کمشنرملتان، ڈپٹی کمشنر ملتان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ لائسنس داروں کو درپیش مسائل کے حل کے لیے فوری طور پر اقدامات کو یقینی بنائیں