اسلام آباد: پاکستان کی سول اور عسکری قیادت نے نئے فوجی آپریشن کی منظوری دیتے ہوئے افغانستان کی عبوری طالبان حکومت پر وہاں موجود کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے دہشت گرد عناصر کے خلاف کارروائی کے لیے دباؤ بڑھانے کی غرض سے نئی ٹھوس سفارتی کوششیں شروع کرنے کا منصوبہ بنایا ہے۔ذرائع نے بتایا کہ دہشت گردوں کے خلاف اس نئے فوجی آپریشن  کے دو پہلو ہیں، پہلا نمبر اندرونی سیکیورٹی کی صورت حال جبکہ دوسرا پہلو بیرونی خطرات کا تدارک کرنا جو افغانستان سے ہے۔نئے آپریشن کے تحت خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر دہشت گرد تنظیموں کے خلاف کارروائی ہوگی جو انسداد دہشت گردی مہم کا حصہ ہے اور نئی سفارتی کوشش شروع کی جائے گی تاکہ ہمسایہ ممالک سے درپیش خطرات کو ختم کیا جائے۔خیال رہے کہ ہفتے کو نیشنل ایکشن پلان کی مرکزی ایپکس کمیٹی نے دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خاتمے کے لیے نئی عسکری مہم ‘عزم استحکام’ شروع کرنے کی منظوری دی تھی۔افغانستان میں اگست 2021 میں طالبان کی حکومت کے بعد پاکستان پر کئی دہشت گردی کے حملے ہوئے ہیں، جس پر اسلام آباد کی جانب سے احتجاج بھی کیا جاتا رہا ہے۔رواں برس کے ابتدائی 5 برسوں میں دہشت گردی کے واقعات میں 83 فیصد اضافہ ہوا ہے، جس سے حکام کو دہشت گرد گروپس کے خلاف نیا آپریشن شروع کرنے کا فیصلہ کرنا پڑا۔ذرائع نے بتایا کہ نئے منصوبے کے مطابق پاکستان ایک مرتبہ پھر افغان حکومت سے رابطہ کرے گا اور انہیں دہشت گرد عناصر کے خاتمے کے لیے کیا گیا اپنا وعدہ پورا کرنے کا موقع دیا جائے گا۔