ملتان (صفدربخاری سے) ایکٹ الائنس پاکستان کے رہنماؤں ظہور جوئیہ،مبشر اکرم،ارشد نزیر بھٹہ،علی اظہر،ڈاکٹر محمد اسلم،زاہدہ خان،شائستہ بخاری،ساجدہ قمر اور انجم پتافی نے مقامی، صوبائی اور قومی معیشت پر مضر اثرات کے بارے میں شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان میں غیر قانونی تجارت تشویشناک حد تک پہنچ چکی ہے، جس کی سالانہ تخمینہ تقریبا 68 ارب ڈالر ہے جبکہ ٹیکس چوری 21 ارب ڈالر سے بڑھ چکی ہے اور اسمگلنگ 3 ارب ڈالر سے زائد ہے۔ مزید برآں، تقریباً 80 فیصد مصنوعات، خاص طور پر شہر کے مرکز اور دیہی علاقوں میں، جعلی ہیں۔ یہ اعداد و شمار ان مسائل کے فوری حل کی ضرورت کو اجاگر کرتے ہیں کیونکہ ایکٹ الائنس اسے پاکستانی ریاست اور شہریوں کے خلاف معاشی دھشتگردی سمجھتا ہے ان خیالات کا اظہار انہوں نے مقامی ہوٹل میں منعقدہ مکالمہ بعنوان غیر قانونی تجارت اور اس کے مقام صوبائی قومی معیشت پر مضر اثرات کے حوالے سےتقریب سے خطاب کے دوران کیا جبکہ اس موقع پر ظہور جوئیہ نے غیر قانونی تجارت کے خلاف شعور اجاگر کرنے اور تعاون کو فروغ دینے میں ایکٹ الائنس کی کوششوں کی تعریف کی۔ “مقامی رہنماؤں تک پہنچنے اور غیر قانونی تجارت کے بارے میں شعور اجاگر کرنے کے لیے ایکٹ الائنس کا اقدام قابل تعریف ہے۔ ملتان کی تاجر برادری غیر قانونی تجارت کے چیلنجز کو تسلیم کرتی ہے اور اس خطرے کو ختم کرنے کے لیے تعاون کے لیے پرعزم ہے۔ مقررین نے کہا کہ پٹرولیم کے شعبے کی ٹیکس چوری 996 ارب، رئیل اسٹیٹ کے شعبے کی 500 ارب، اور تمباکو کے شعبے کی 310 ارب روپے سالانہ ہے۔ ان پریشان کن اعداد و شمار کے باوجود، حکومت نے غیر منصفانہ طور پر تمباکو کی بین الاقوامی کمپنیوں سے زیادہ ٹیکس نکالنے پر توجہ مرکوز کی ہے، جو پہلے ہی بھاری ٹیکس ادا کر رہے ہیں، جبکہ مقامی کمپنیوں کی بڑی اکثریت ٹیکس چوری کرتی ہے۔ مقامی سول سوسائٹی رہنماؤں نے اس عدم توازن پر شدید تشویش کا اظہار کیا اور زور دیا کہ حکومت کو ٹیکس چوروں اور تمباکو مصنوعات کی غیر قانونی تجارت میں ملوث افراد کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کرنی چاہیے۔اگر پاکستان غیر قانونی معیشت کی وجہ سے ہونے والے نقصانات کا صرف 25 فیصد بھی واپس حاصل کر لیتا ہے تو اس سے قومی اور مقامی ترقیاتی منصوبوں میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری ہو گی، جو براہ راست ملتان کے عوام کو بھی فائدہ پہنچائے گی۔