ملتان(صفدربخاری سے) راؤ محمد ظفر امیر جماعت اسلامی جنوبی پنجاب نے کہا کہ سودی نظام سے نجات کے بغیر عوام دوست بجٹ پیش نہیں کیا جاسکتا،آئی ایم ایف کی غلامی بجٹ کے دستاویزات سے جھلک رہی ہے ،اشرافیہ اور مقتدر طبقہ کی عیاشیوں میں کمی کی بجائے ،غریب عوام پر ٹیکسوں کا بوجھ ڈالا جارہا ہے،تنخواہ دار طبقہ پر ٹیکسسز کا بوجھ ڈالنا ان کے معاشی قتل کے مترادف ہے،پیٹرولیم مصنوعات پر لیویز بڑھانے سے مہنگائی کا نہ تھمنے والا طوفان آئے گا ،فارم 47 پر آنے والے غربت میں جکڑی عوام پر آسانی کی بجائے مشکلات بڑھا رہے ہیں، آئی ایم ایف سے لیے گئے 23پروگراموں سے معیشت بہتر نہ ہوئی، 24ویں سے بھی حالات ٹھیک نہیں ہوں گے۔ ٹیکس آمدن اضافہ میں ایف بی آر کا کوئی کریڈٹ نہیں، تنخواہ دار طبقہ سے 326ارب سمیٹے گئے، پٹرولیم لیوی اورمہنگی گیس اور بجلی بلنگ سے غریب عوام کو نچوڑا گیا، بڑے صنعتکاروں اور تاجروں سے صرف 86ارب جمع ہوئے،طاقتور ٹیکس نہیں دیتے، جاگیرداروں کو چھوٹ ہے، ٹیکس آمدن کا 87فیصد قرض،سود کی ادائیگی میں چلا جاتا ہے۔