اسلام آباد: سینیٹ اجلاس میں سینیٹر عون عباس بپی نے بجٹ پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ بجٹ میں پیپلزپارٹی نے منافقانہ کردار اداکیا۔ بجٹ میں صحت کےلئے ہوالشافی،روزگار کےلئے واللہ خیر الرازقین کا وظیفہ بتایا گیا جبکہ بجٹ میں تعلیم کےلئے رب زدنی علما کا وظیفہ بتایا گیا۔انہوں نے کہا کہ اس وقت سب سے زیادہ منافقت والا کردار پیپلزپارٹی ادا کررہی ہے، فنانس کمیٹی ان کے پاس ہے بجٹ تجاویز انہوں نے دیں اب کہتے ہیں ہمیں پتہ نہیں، ہمارے اس ایوان کے رکن اعجاز چودھری کے ابھی تک پروڈکشن آرڈرز جاری نہیں ہوئے۔عون عباس بپی کا کہنا تھا کہ امریکاکو خوش کرنے کےلئے پی ٹی آئی حکومت منحرف ارکان کو 20،20 کروڑ دیکر گرائی گئی، تنخواہ سے زیادہ ٹیکس بڑھا دیا گیا، پٹرولیم لیوی 60 سے بڑھا 80 روپے کردی گئی، فوری طور پر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 20 روپے اضافہ ہوگا۔انہوں نے کہا کہ بجٹ میں ویڑن صرف چین سے بھیک مانگنا ہے، بجٹ میں اکنامک زونز کے لئے کچھ نہیں رکھا، جیسے حکومت نہیں چل رہی ویسے ہی پارلیمنٹ نہیں چل رہی، ایوان میں کوئی وزیر نہیں ہے، پارلیمنٹ کی بھی نجکاری کردی جائے۔ عون عباس بپی کا کہنا تھا کہ اداروں میں دبا کر بھرتی کرتے ہیں پھر ادارے بیچ دیتے ہیں، امپورٹڈ وزیر خزانہ مسلط ہے، ہالینڈ کے شہری کو کامونکی جام پور کے مسائل کا کیا پتہ، جب حکومتی ممبران ملتے ہیں تو کہتے ہیں وزیر خزانہ اور وزیر داخلہ مسلط کردیا گیا اب بھگتیں۔انہوں نے مزید کہا کہ زراعت کو تباہ کردیا گیا،صحت پر 18 فیصد ٹیکس لگا دیا، لاہور کے ایک کروڑ شہریوں کےلئے 61 ارب جنوبی پنجاب کے4 کروڑ شہریوں کےلئے 33 ارب روپے ترقیاتی بجٹ رکھا گیا، اس لئے مطالبہ کرتا ہوں جنوبی پنجاب صوبہ بنایا جائے، ترقیاتی فنڈ کے نام پر کرپشن ہوتی ہے،10 فیصد تک کا ریٹ ہے، ڈیڑھ کھرب کے ترقیاتی فنڈ سے 30 ارب روپے کمائے جائیں گے۔