ملتان (صفدربخاری سے) 12جون ، پوری دنیا میں بچوں پر جبری مشقت کے خلاف عالمی دن ( چائلڈ لیبر ڈے) کے طورپرمنایا جاتا ہے۔ چائلڈ لیبر ڈے کے موقع پر ہمیں اس بات کا گہرائی سے جائزہ لینا چاہئے کہ وہ کون سی مجبوری یا حالات ہیں جن کے تحت دنیا میں 16 کروڑ بچے محنت مزدوری کر رہے ہیں۔ یہ بچے اسکول جانے کی بجائے محنت مزدوری کرنے پر مجبور ہیں۔یہ بات گروپ چیرمین ایس ایم فوڈ اینڈ وولکا فوڈ انٹرنیشنل، ممبر نیشنل ڈویلپمنٹ ایکسپورٹ بورڈ برائے ایگرو اینڈ فوڈ پروسیسڈ چوہدری ذوالفقارعلی انجم نے چائلڈ لیبر ڈے پراپنے ایک خصوصی بیان میں کہی انہوں نے کہا کہ جبری مشقت کی زیادہ تروجہ مالی مشکلات اور غربت ہے جو بچوں کو تعلیم سے دور رکھتی ہے اور انہیں محنت مزدوری کرنے پر مجبور کرتی ہیں۔ معروف صنعت کار نے کہا کہ میرے نزدیک ان بچوں کے والدین کو باعزت روزگار فراہم کرنا اس مسئلے کا ایک اہم حل ہو سکتا ہے۔ جب والدین کو مستحکم اور مناسب روزگار ملے گا، تو وہ اپنے بچوں کو سکول بھیجنے کے قابل ہوں گے اور اس طرح بچوں کو محنت مزدوری کرنے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک خوشحال گھرانہ بچوں کی تعلیم اور بہتر مستقبل کی ضمانت ہے۔ حکومت کے ساتھ ساتھ، مخیر حضرات، صنعت کاروں اور کاروباری افراد کو بھی آگے آنا چاہئے اور روزگار کے مواقع فراہم کرنے میں اپنا کردار ادا کرنا چاہئے۔ یہ افراد اور ادارے نہ صرف اپنی صنعتوں میں روزگار کے مواقع پیدا کر سکتے ہیں بلکہ کمیونٹی پروگراموں اور تعلیمی وظائف کے ذریعے بھی مدد فراہم کر سکتے ہیں۔ یہ مشترکہ کوششیں ہی اس مسئلے کو حل کر سکتی ہیں اور بچوں کو ان کے بنیادی حق، یعنی تعلیم، تک رسائی دلا سکتی ہیں۔ چوہدری ذوالفقارعلی انجم نے کہا کہ صرف حکومت پر انحصار کرنے کی بجائے، معاشرے کے تمام طبقات کو اس اہم مسئلے کے حل کے لئے مل کر کام کرنا چاہئے۔ اس طرح ہم نہ صرف چائلڈ لیبر کے مسئلے کو کم کر سکتے ہیں بلکہ بچوں کو ایک روشن مستقبل فراہم کرنے میں بھی کامیاب ہو سکتے ہیں۔