کراچی :  بچوں کو غیر قانونی طور پر بیرون ملک بھیجنے اور سمگلنگ کیس میں سماجی رہنماصارم برنی کو  ایف آئی اے کی جانب سے عدالت میں پیش کردیا گیا۔ ایف آئی اے کی جانب سے عدالت سے صارم برنی کو جسمانی ریمانڈ پر دینے کی استدعا کی گئی، تفتیشی افسر نے کہا کہ صارم برنی سے بچوں سے متعلق تفتیش کرنی ہے، صارم برنی کو جسمانی ریمانڈ پر دیا جائے۔ عدالت نے صارم برنی سے استفسار کیا کہ آپ کے وکیل کہاں ہیں؟ جس پر انہوں نے کہا کہ میرے وکیل آرہے ہیں تھوڑا وقت دیا جائے۔ صارم برنی کی جانب سے وکیل سید آصف علی عدالت پیش ہوئے ، وکیل کی جانب سے صارم برنی کی وکلاء ٹیم کو پیش ہونے کے لیے وقت دینے استدعا کی گئی۔ عدالت نے صارم برنی کی وکلاء ٹیم کو پیش ہونے کے لئے 15 منٹ کی مہلت دے دی ، عدالت نے کیس کی سماعت کچھ دیر کے لیے ملتوی کردی۔ ذرائع کے مطابق صارم برنی پر مقدمے میں نومولود بچی کو امریکا  سمگل کرنے کا الزام عائد کیا گیا، صارم برنی نے گزشتہ ایک سال میں 20 نومولود بچوں کو امریکہ میں گود لینے کے نام پر سمگل کیا۔ایف آئی اے ذرائع کاکہنا ہے کہ امریکا بھیجے گئے بچوں میں 15 سے زائد لڑکیاں ہیں، صارم برنی کے حوالے سے امریکی تحقیقاتی ادارے بھی چھان بین کررہے ہیں، صارم برنی کی جانب سے امریکامنتقل کئے گئے بچوں کاریکارڈ سفارتخانے سے ایف آئی اے حکام کو فراہم کیا گیا۔ ذرائع کا بتانا ہے کہ صارم برنی کی اہلیہ سے بھی تفتیش کرنے پر غور جاری ہے ، صارم برنی نے جو آخری بچی امریکہ بھیجی وہ مبینہ طور پر اسکے والدین سے پیسوں میں خریدی گئی تھی۔ بچی کی خریداری میں ایک سے زائد افراد نے صارم برنی کی معاونت کی، صارم برنی پر مزیدبچوں کی سمگلنگ اور منی لانڈرنگ کے حوالے سے مزید مقدمات درج کیے جائیں گے۔صارم برنی کو انکے حالیہ دورہ امریکہ کے دوران امریکی حکام نے سرویلنس میں رکھا تھا۔ واضح رہے کہ گزشتہ روز ایف آئی اے کی اینٹی ہیومن اینڈ ٹریفکنگ ٹیم نے سماجی رہنما صارم برنی کو کراچی ایئرپورٹ سے حراست میں لیا تھا۔