ملتان (صفدربخاری سے) ممبر نیشنل ڈویلپمنٹ ایکسپورٹ برائے ایگرو اینڈ فوڈزپروسیسڈ ، گروپ چئرمین ایس ایم فوڈز اینڈ وولکا فوڈزچوہدری ذوالفقار علی انجم نے چائنا کا دورہ کیا ۔ انہوں نے گذشتہ ماہ 12مئی سے 17مئی اور 17مئی سے24مئی2024 تک دو سیشن میں ہونے والی بیکری چائنا ایکسپو میں شرکت کی ۔اس نمائش میں دنیا بھر سے صنعت کار اور انجینئرزجو بیکری سے متعلق مشینری لاتے یا ان کے فارمولے لاتے ہیں شرکت کرتے ہیں۔ اس انٹر نیشنل نمائش میں نئی اور جدت والی بیکری کی مشینری رکھی جاتی ہے  یہ دنیا کی بڑی نمائش کہلاتی ہے اس نمائش میں شرکت اور چائنا کا وزٹ کرنے کے بعد پاکستان واپسی پرممبر نیشنل ایکسپورٹ ڈویلپمنٹ چوہدری ذوالفقارعلی انجم نے کہا کہ  سرکاری سطح پر بیرون ملک جانے والے افسران اور انجینئرز ترقی یافتہ ممالک کی پالیسی اور انفراسٹرکچر سے کچھ نہیں سیکھتے، جبکہ نجی سیکٹر سے بیرون ملک جانے والے تاجر،صنعت کار اور کاروباری افراد کامیاب ملکوں کی پالیسی سیکھتے ہیں، اور اس سے بھر پور فائدہ اٹھاتے ہیں ۔ ذوالفقارعلی انجم کا کہنا تھا کہ چین کی حکومت نےقدامت پسند اشتراکیت کی بجائے کھلے بازار اور وسیع پیمانے پر صنعت بڑھانے کی پالیسی اختیار کر لی۔ اس کی وجہ سے مصنوعات کی تیاری چین میں کافی بڑھ گئی اور اس کار خانہ داری کی تبدیلی کو حکومت نے اضافہ دینے کا فیصلہ کیا۔ اس کی وجہ سے حکومت کی ایک مسلمہ پالیسی بن چکی ہے کہ وہ کسی بھی فیکٹری یا کاروباری ادارے کو لائسنس دیتے وقت یہ دریافت کرتی ہے کہ وہ کتنی مصنوعات کو باہر فروخت کرتا ہے۔ چین کی حکومت خود وہاں کے مصنوعات کے تیار کنندوں کی باہری ملکوں کے کاروباریوں سے ربط کرنے اور انھیں مصنوعات فروخت کرنے میں مدد کرتی ہے، مسلمان ممالک میں عام طور سے قرآن مجید کے نسخوں اور جائے نمازوں اور تسبیح جو روایتی اور ڈیجیٹل دونوں شکلوں میں دست یاب ہیں۔ ان کی بہت مانگ ہوتی ہے۔ چین ان مصنوعات کو بھی فراہم کرتا ہےانہوں نے کہا کہ اسکول کے بچوں کے لئے ، پین، مارکر،پنسل، ربڑ قلم، وغیرہ جیسی میعاری مصنوعات تیار کی جارہی ہیں جو ایشیا اور خلیج کے ممالک کو برآمد کی جارہی ہیں۔ اسی طرح سے دفتری مصنوعات جیسے اسٹیپلر، ٹوچن، پیپر ریک، فوٹو فریم وغیرہ کا حال ہے۔ بچوں کے کھلونے، بناؤ سنگھار کا سامان، وغیرہ ہر چیز میں چینی متبادل موجود ہے۔انہوں بتایا کہ میں نے وہاں سے بیکری کی چند جدید مشینری بھی خریدی ہیں ۔  ذوالفقارعلی انجم نے کہا کہ ایک عظیم صلاحیت جو ہمارے یہاں موجود ہے، میری مراد افرادی قوت کی عظیم صلاحیت سے ہے، یہ ملک کو موجودہ صورت حال سے نکال کر کئی گنا زیادہ منافع پہنچا سکتی ہے اور ملک کے بڑے مسائل کا حل نکال سکتی ہے۔مگر اس نعمت اور صلاحیت کو کیسے استعمال میں لایا جائے، یہ حکومتوں کی ذمہ داری ہے۔