پشاور: اسمبلی کے اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈا پور  نے کہا ہے کہ زیادہ لوڈشیڈنگ والے علاقوں میں سولر سسٹم لگا کر عوام کو بجلی فراہم کریں گے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ ہم کہتے ہیں بجلی دو یہ (وفاق) کہتا ہے کہ بجلی نہیں اور چوری ہورہی ہے، اگر چوری ہورہی ہے تو روکنے کے اقدامات کیوں نہیں کیے گئے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ بجلی لوڈشیڈنگ کے مسئلے سے نمٹنے کیلیے اب ہم سولر آئزیشن کہ طرف جارہے ہیں، 156 ایسے فیڈرز ہیں جہاں لوڈشیڈنگ زیادہ ہے وہاں سولر دیں گے۔ علی امین گنڈا پور نے کہا کہ اب حکمرانوں کی مزید عیاشیاں برداشت نہیں کریں گے، اخراجات کی مد میں کٹوتی کریں گے، سرکاری بجلی کا بل کم کریں گے 20 فیصد تک وصولی نہ ہوئی تو اُسی محکمے سے پیسہ نکلوائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ وفاق نے اعلی تعلیم کے بجٹ میں بھی کٹوتی کی جبکہ ہم نے اپنے تعلیم کے بجٹ کو بڑھایا ہے، حکمران سیاسی شہید بننے کی کوشش کررہے ہیں جبکہ ہم نے عوامی بجٹ پیش کیا، جس میں روزگار کا منصوبہ، احساس روزگار اور احساس گھر کا منصوبہ پیش کیا ہے۔ وزیراعلیٰ نے اعتراف کیا کہ صوبے میں امن وامان بڑا چیلنج ہے، جس پر قابو پانے کیلیے ہم نے اپنے وسائل میں رہتے ہوئے پولیس کا بجٹ 7 ارب روپے مختص کردیا ہے۔ جب تک وسائل میں اضافہ نہیں ہوتا دہشت گردی کا مقابلہ کرنے میں  مشکلات کا سامنا رہے گا۔ علی امین گنڈا پور نے اعلان کیا کہ کرپشن کے خاتمے کیلیے قانون سازی کرنی ہے جبکہ منشیات فروشوں کے لیے سزائے موت کا قانون لارہے ہیں، اگر کوئی منشیات فروش ہے تو اُس کی نشاندہی کریں تاکہ سخت سزا دے کر ہم اپنی آنے والی نسل کو اس لعنت سے محفوظ رکھ سکیں۔