لاہور: گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی کا کہنا ہے کہ یہ قیامت کی نشانی ہوگی مولانا تحریک انصاف کے ساتھ بیٹھیں، میں تو انتظار میں ہوں مولانا اور علی امین گنڈاپور ایک ٹرک پر عوام سے خطاب کریں۔ لاہور میں منظور وٹو کے گھر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے گورنر کے پی نے کہا کہ پارٹی نے جو مجھے ٹاسک سونپا اس پر پورا اتروں گا، جو آئین کو نہیں مانتے ان کے ساتھ بات چیت نہیں ہونی چاہیے، بات چیت ان سے ہونی چاہیے جو آئین کو مانتے ہیں۔  گورنر خیبرپختونخوا نے کہا کہ کے پی کے حکومت نے بجٹ میں 3 ارب تعلیم کے لیے رکھے تھے، مجھے اپنے وزیراعلیٰ کی مجبوریوں کا احساس ہے، اب میں وزیر اعلیٰ کے سخت جملوں کا جواب نہیں دوں گا۔ فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ میں کے پی کی تمام سیاسی جماعتوں کے پاس جارہا ہوں، ہم نے مل کر خیبر پختونخوا کا مقدمہ وزیر اعظم کے سامنے پیش کرنا ہے، وزیر اعلیٰ کو کہوں گا مذاکرات کی ٹیبل پر بیٹھیں اور مسائل کا حل تلاش کریں۔ منظور وٹو نے کہا کہ پارلیمان اور پارٹی میں ہم نے مل کر کام کیا، میں نے پارٹی نہیں چھوڑی میرے بچے ناراض ہو کر الگ ہوئے تھے، چیئرمین بلاول بھٹو نے ملاقات میں ہمارے تحفظات دور کر دیے،  ہم مل کر چلیں گے، آنے والا دور پیپلز پارٹی کا ہے۔