ملتان: گروپ چیئرمین ایس ایم فوڈ اینڈ وولکا فوڈ انٹرنیشنل ممبر نیشنل ڈویلپمنٹ ایکسپورٹ بورڈ برائے ایگرو اینڈ فوڈ پروسیسڈ چوہدری ذوالفقار علی انجم نے میڈیا سے بجٹ 2024-25 پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بجٹ صرف وفاقی حکومت کی آمدنی، سرمایہ اور خارجی وصولیوں کے ساتھ ساتھ آئندہ مالی سال کے موجودہ اور ترقیاتی اخراجات کی مجموعی معلومات کا دستاویز نہیں ہے بلکہ یہ معیشت اور ملک کے مستقبل اور ترقی کا بھی اشاریہ ہوتا ہے۔ اس سال وفاقی بجٹ میں ترقیات کے لیے 1221 ارب روپے رکھنے کی تجویز دی گئی ہےاور انفرا اسٹرکچر کے لیے 877 ارب، توانائی کے لیے 378 جب کہ ٹرانسپورٹ کے لیے 173 ارب روپے رکھے جانے کی تجویز ہے۔ یہ بہت اچھی تجاویز ہیں۔میری حکومت وقت سے اپیل ہے کہ ’’آئندہ بجٹ میں عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف فراہم کیا جائے‘‘۔ معروف صنعت کار نے کہا کہ گزشتہ مالی سال 2023-24 کی ترقی کی شرح بمشکل 3فیصد ہے، جو آزادی کے بعد 77 سالوں میں سب سے کم ہے۔ مالی سال 2024-25 کے وفاقی بجٹ میں آمدنی پیدا کرنے اور اخراجات کو کم کرنے پر توجہ مرکوز ہونی چاہیئے، تاکہ بجٹ خسارے کو کم کیا جا سکے۔ یہ بہتر مالیاتی پالیسیوں کے ذریعے ممکن ہے، جیسے کہ ٹیکس بیس کو بڑھانا بغیر کسی نئے ٹیکس لگائے یا موجودہ ٹیکس کی شرح میں اضافہ کیے بغیر، اور ٹیکس سے جی ڈی پی کے تناسب کو بہتر بنانا۔ موجودہ حکومت نے درآمدی سامان پر ٹیکس ڈیوٹیز بڑھانے، فوڈ آئٹمز پر سیلز ٹیکس چھوٹ ختم کرنے، ودہولڈنگ ٹیکس، سیلز ٹیکس چھوٹ ختم اور کسٹم ڈیوٹیز کی شرح بڑھانے کی تجاویز پیش کی گئی ہیں جو بہت عمدہ تجاویز ہیں۔ اس طرح ملک میں کارخانے لگیں گے، ایکسپورٹ بڑھے گی، جس سے ملک میں ڈالر آئیں گے۔ معیشت کے اہم شعبوں میں ترقی کو بڑھانے کے لیے، زراعت، مینوفیکچرنگ، اور سماجی شعبے کی ترقی میں مزید سرمایہ کاری، یعنی انسانی وسائل کی ترقی، تعلیم، صحت، ہنر کی ترقی، اور انفارمیشن ٹیکنالوجی (آئی ٹی) کے شعبے کے ذریعے، پیداوار کو بڑھانے کی کوشش کی جائے۔ایک اندازے کے مطابق بجٹ 2024-25 میں سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے لیے 104 ارب روپے، پروڈکشن سیکٹر کے لیے 21 ارب روپے، فوڈ اینڈ ایگریکلچر کے لیے 14 ارب روپے اور صنعتوں کے لیے 7 ارب روپے رکھنے کی تجویز دی گئی، یہ رقوم کم ہیں،فوڈ اور زراعت کا بجٹ بڑھایا جائے۔ ہم ملکی سطح پر اخراجات کو کم کریں اور کفایت شعاری کو اپنائیں۔ پاکستان مختصر مدتی اخراجاتی اقدامات سے 876 ارب روپے کی ممکنہ بچت اور اصلاحات اور نجکاری سے 458 ارب روپے کی ممکنہ بچت حاصل کر سکتا ہے۔ خسارے کو کم کرنے اور احتساب کو بہتر بنانے میں نمایاں نتائج حاصل کئے جاسکتے ہیں۔ میری رائے میں حکومت کو recurrent اخراجات میں 10 فیصد کمی کا ہدف مقرر کرنے پر غور کرنا چاہیے۔آئندہ بجٹ میں عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف فراہم کیا جائے۔