ملتان :  یوم سقوط ملتان 2 جون 1818 کے حوالے سے سرائیکستان نوجوان تحریک نے چوک کمہارانوالہ پر رنجیت سنگھ کا پتلا جلا کر بھر پور احتجاجی مظاہرہ کیا ۔مظاہرین نے رنجیت سنگھ مردہ باد ،تخت لاہور مردہ باد ،کی فلک شگاف نعرے بازی کی ۔مظاہرے کی قیادت چیئرمین مہر مظہر عباس کات،مرکزی راہنما سبطین خان لنگاہ،حسن رضا بھٹی ،رانا نعیم نے کی ۔مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج سے دو سو سات سال قبل 2 جون 1818 کو لاہوری پنجابی سنگھ حکمران رنجیت سنگھ نے کئی حملوں کے بعد 2 جون کو ملتان قلعہ پر قبضہ کیا اور ہزاروں مقامی لوگوں کو شہید کیا ملتان کے آخری حکمران نواب مظفر خان کو پانچ بیٹوں اور ایک بیٹی کے ہمراہ شہید کر دیا۔رنجیت سنگھ کی ظالم فوج نے کئی سو خواتین کی عزتیں لوٹیں ۔ملتان کی ہزاروں خواتین نے اپنی عزت بچانے کے لیے شاہ گردیز اور شاہ شمس کے کنویں میں چھلانگیں لگا کر زندگی کا خاتمہ کیا۔رنجیت سنگھ ملتان کے تمام نوادرات اور سونا چاندی لوٹ کر لاہور لے گیا ۔مہر مظہر عباس کات نے کہا کہ رنجیت سنگھ سے لے کر آج تک ملتان ،سرائیکی وسیب تخت لاہور کے قبضے میں ہے ۔مہر مظہر عباس کات نے کہا کہ ہم آج بھی رنجیت سنگھ کا پتلا جلا کر تخت لاہور کو بتا رہے ہیں کہ رنجیت سنگھ اور تخت لاہور کل بھی مردہ باد تھے آج بھی مردہ باد ہیں اور قیامت تک مردہ باد ہی رہیں گے ۔سرائیکی راہنما نے کہا کہ ہمارا ریاست اور ریاستی اداروں سے مطالبہ ہے کہ جلد سے جلد ہمیں تخت لاہور سے آزاد کیا جائے اور ہمارا الگ سرائیکی صوبہ بنایا جائے تاکہ پاکستان مستحکم ہو سکے ۔مظاہرے میں کثیر تعداد میں نوجوانوں نے شرکت کی۔