اسلام آباد: توانائی ڈویژن کی طرف سے نیٹ میٹرنگ قوانین میں ترامیم کی جا رہی ہیں، جن کے تحت سولر انرجی صارفین پر مزید ٹیکس عائد ہونے کا امکان ہے۔ڈیلی پاکستان گلوبل کے مطابق نیٹ میٹرنگ پالیسی میں اصلاحات کا مقصد سولر انرجی صارفین اور گرڈ صارفین میں بجلی کی قیمت کے عدم توازن کو ختم کرنا ہے۔ قوانین میں پہلی ممکنہ ترمیم یہ کی جا رہی ہے کہ نیٹ میٹرنگ کی فی یونٹ قیمت میں 50فیصد کمی لائی جا رہی ہے۔ اس وقت رہائشی اور کمرشل دونوں کو ملا کر سول انسٹالیشن سے 2ہزار میگاواٹ بجلی قومی گرڈ میں شامل ہو رہی ہے۔ گزشتہ ایک سال کے دوران سولر انرجی صارفین کی تعداد میں دو گنا سے زائد اضافہ ہوا ہے جو 55ہزار سے بڑھ کر 1لاکھ 20ہو گئی ہے۔ لوگوں کے بڑی تعداد میں سولر انرجی پر منتقل ہونے کی وجہ سے گرڈ صارفین پر بوجھ میں اضافہ ہوا ہے۔ اگر نیٹ میٹرنگ کی فی یونٹ قیمت کم نہیں کی جاتی تو آئندہ سال کے دوران گرڈ صارفین پر یہ بوجھ بڑھ کر 350ارب روپے ہونے کا امکان ہے۔