ملتان:  نواب مظفر خان نہ بہادر تھا نہ ہی سرائیکیوں کا ہیرو تھا بلکہ بزدل لالچی ترین انسان تھا رنجیت سنگھ کو باقاعدہ خراج دے کر امان حاصل کرتا رہا سرائیکیوں پر راجہ رنجیت سنگھ سے پہلے بھی سینکڑوں حملے اور ملتان کی بارہا مرتبہ تباہیوں کی تاریخ موجود ہے مظفر خان افغان حملہ اوروں کی اولاد تھا اس کو ہیرو ماننے والے کچھ تو بھولے بادشاہ اور کچھ خوشامدی چاپلوس ،اور مکار ہیں ان خیالات کا اظہار عوامی احتساب سیل و نیشنل لیبر الائنس کے مرکزی چیئرمین غازی احمد حسن كھوكھر نے 2 جون کو سقوط ملتان منانےاور افغانستان حملہ آوروں کے نمائیندے اور گوجرانوالا کے رنجیت سنگھ کے درمیان لٹیروں کی جنگ میں مظفر خان کو ہیرو قرار دینے والوں کی مزمت کرتے ہوئے کیا غازی احمد حسن كھوكھر نے کہا نواب مظفر خان بار بار رنجیت سنگھ کے سامنے گڑ گڑا کر اپنی زندگی اور حکمرانی کیلیے بھیک مانگتا رہا کہ میری زندگی تک ریاست ملتان کے میرے پاس رہنے دیا جائے اس دوران خراج کی اس قدر عادت ڈالی کہ کچھ عرصہ کے بعد رنجیت سنگھ رقم کا مطالبہ کر دیتا تھا نواب مظفر خان نے رنجیت سنگھ کی ناراضگی کے خوف سےجھنگ سے پناہ لیئے ہوئے رنجیت سنگھ کے باغی کو اچانک ملتان سے نکل جانے پر مجبور کیا اس کی بجائے سرائیکیوں کو اپنا دھرتی واس ہیرو تلاش کرنا چاہیئے اس وقت کچھ ،، دیہاڑی بازوں نے ،،اپنی غربت مٹانے کیلئے مخصوص طبقہ کو خوش کرنے کے لئے مظفر خان کو ہیرو قرار دینے کا ٹھیکہ لے رکھا ہے ان کی سرائیکیوں کی نظر میں بھی کوئی وکت نہیں ہے انھوں نے رانا فراز نون ،، ملک الللہ نواز وینس ،، غلام رسول گورمانی ،، مظفر مگسی ،، جاوید چننڑ ،، محترمہ ڈاکٹر نخبہ تاج لنگاہ اور وسیب کے دانشوروں ،لکھاریوں ،ادبی شخصیات سے اپیل کی کہ وہ سرائیکیوں کے قاتلوں لٹیروں کو ہیرو ثابت کرنے والوں کی نہ صرف حوصلہ شکنی بلکہ مزمت کریں رنجیت سنگھ اور مظفر خان دونوں سرائیکیوں کے قاتل چور ڈاکو لٹیرے تھے جنکی ہم مزمت کرتے ہیں اور ان کے ادوار کو سیاہ دور قرار دیتے ہوئے اپنی نسلوں کو یاد رکھنے کا درس دیتے رہینگے