کراچی:سٹیل مل کو بند کریں گے اور نہ نجکاری کریں گے، سٹیل مل کو چلایا جائےگا۔ وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی زیر صدارت کابینہ اجلاس کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئےوزیر اطلاعات سندھ شرجیل میمن نے کہا ،  ان کا کہنا تھا کہ کابینہ اجلاس میں دیرینہ مسائل پر پیش رفت ہوئی، کابینہ اجلاس میں سندھ کی بہتری کے لئے اہم فیصلے ہوئے، کابینہ اجلاس میں سندھ کے مسائل اور نئے اساتذہ کے مسائل پر بات کی گئی۔شرجیل میمن نے کہا کہ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ کراچی،حیدرآباد، سکھر اور لاڑکانہ میں کام کر رہاہے، سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ کے لئے سالانہ 30 ارب خرچ کر رہے ہیں، کوئی بھی گھر کے باہر کچرا پھینکے گا اسے گرفتار کیا جائےگا۔سینئر صوبائی وزیر نے کہا کہ سندھ بھر سے کچرا فوری بنیادوں پر اٹھایا جارہا ہے، جو بلڈر بھی گھر مسمار کرتا ہے وہ ملبہ سڑکوں پر پھینک دیتا ہے، اب جو ملبہ سڑکوں پر پھینکے گا اسے گرفتار کیا جائے گا، ایس ایچ او بھی نظر رکھیں کوئی بھی سڑک پر ملبہ پھینک رہا ہو اسے گرفتار کریں۔انہوں نے بتایا کہ سندھ میں کل 48 محکمے ہیں جن میں سے 16 محکموں کو ڈیجیٹلائز کرنے جارہے ہیں، سندھ میں ون سٹاپ شاپ کی منظوری دی گئی۔ وزیر اطلاعات سندھ نے کہا کہ سٹیل مل کو نہ بند کریں گے اور نہ نجکاری کریں گے، سٹیل مل کو چلایا جائےگا، سٹیل مل کو اپنے قدموں پر اٹھائیں گے۔شرجیل میمن نے کہا کہ کابینہ اجلاس میں سندھ کے مسائل اور نئے اساتذہ کے مسائل پر بات ہوئی، کابینہ میں اوباڑو میں اساتذہ کی تقرریوں کی منظوری دی گئی۔ انہوں نے بتایا کہ ملیر ایکسپریس وے پر 100ایکڑ زمین سپیشل بچوں کو دی جارہی ہے، سٹیٹ آف دی آرٹ ادارہ قائم کیا جائیگا ایسا ادارہ پورے پاکستان میں نہیں ہے، پیپلز پارٹی لیڈر شپ کی ذاتی دلچسپی کی وجہ سے خصوصی بچوں کے لئے کام کیاہے، سٹیٹ آف دی آرٹ میں بچوں کے لئے سکول، ہسپتال، آٹزم سینٹر اور پلے گراو¿نڈ ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ الیکٹریکل گاڑیوں کی رجسٹریشن کامسئلہ تھا،ای وی گاڑیاں اب باآسانی رجسٹرڈ کرواسکتے ہیں، ای وی گاڑی رجسٹریشن کے چارجز 1000روپے ہیں، 50ای وی بسیں لے کر آئے تھے، ٹرائل بیس پر چلائی تھیں، اس کی کابینہ نے منظوری دے دی۔شرجیل انعام میمن نے کہا کہ بجٹ نے اجازت دی تو 8000ای وی بسوں تک بھی جا سکتے ہیں۔