ملتان ویڈا بس سروس یا فضائی آلودگی کا کارخانہ؟

تحریر۔۔۔ملک قسورعباس گرا ایڈوکیٹ
پبلک ٹرانسپورٹ عوام کے لئے بلاشبہ بڑی سہولت ہے لیکن اگر یہی سہولت عوام کے لیے زحمت بننے لگے تو اسکا ذمدار کون ہے ؟ جب کوئ ٹرانسپورٹ روڈ پر چلتی ہے تو اُسے دیکھ بھال اور فٹنس کی بھی ضرورت ہے اگر یہ سب کرنے والے میٹھی نیند سو رہے ہوں تو انہیں کون جگائے گا سال 2017 میں ملتان کو 100 ویڈا بسیں دی گئیں اور خطیر سبسڈی بھی ملتی رہی جو کہ کافی عرصہ بسوں پر آویزاں رہی لیکن آج صورتحال یہ ہے کے یہ دھواں چھوڑتی بسیں ملتان کے ماحول کو آلودہ کرنے میں مصروف عمل ہیں ۔ دھواں بھی ایسا کے کوئ شریف آدمی بس کے پیچھے لگ گیا تو وہ لازمی ڈاکٹر کے پاس پہنچے گا ۔ ملتان میں آلودگی کا انڈیکس آج کے دن 193 ہے جو کے صحت کے لیے انتہائی نقصان ده ہے ۔ میرے پڑھنے ولوں کہ علم میں اِضافہ فرما دوں کہ صحت مند انڈیکس ریٹنگ 50 ہے اب آپ خود ہی اندازہ لگا لیں کے ملتان میں آلودگی کا لیول کس قدر زیادہ ہے اور اِس آلودگی میں اضافہ کے براہ راست دو ادارے ذمہ دار ہیں سر فہرست محکمہ ماحولیات اور دوسرا موٹر وہیکل ایگزامینر يا آر ٹی او ڈیپارٹمنٹ اگر آپکی یا میری ذاتی گاڑی دھواں چھوڑ رہی ہو تو ہمیں اُسکا جرمانہ دینا پڑتا ہے لیکن کیا ویڈا بس سروس کی انتظامیہ اتنی طاقتور ہے کے ان بسوں پر کوئ پابندی نہیں کوئی جرمانہ نہیں حالانکہ شہریوں کی صحت اور صفائی جیسی بنیادی سہولیات کی فراہمی اور ماحولیاتی آلودگی کے تدارک کیلئے اقدامات خالصتاً حکومتی اور ان مذکورہ اداروں کی ہے ویڈا بسیں دھڑلے سے فراٹے بھرتے ہوئے ملتان کی فضا کو آلودہ کر رہی ہیں اور ملتان کے شہری پھیپھڑوں اور سانس کے مریض بنتے جا رہے ہیں ارباب اختیار بخوبی جانتے ہیں ڈیزل کا دھواں نہ صرف پھیپھڑوں کو تباہ کرتا ہے بلکہ پھیپھڑوں کے کینسر کا بھی موجب بن سکتا ہے روڈ پر چلنے والی کمرشل گاڑیوں کو فٹنس سرٹیفکیٹ لینا ہوتا ہے کیا ان ویڈا بسوں کو بغیر چیک کئے فٹنس سرٹیفکیٹ سے نوازا جا رہا ہے قانون صرف عوام کے لئے حرکت میں آتا ہے کیا حکومتی منصوبوں كو استثنیٰ حاصل ہے ۔ اب بات کرتے ہیں محکمہ ماحولیات کی جو کے اب سفید ہاتھی بن چکا ہے ایمانداری سے سوچیں کہ کہاں پر یہ محکمہ کام کرتا ہوا نظر آ رہا ؟ ایک خطیر رقم تنخواؤں کی مد میں لینے والے افسران صرف عوام کی جیب پر بوجھ ہیں۔ کیا یہ لوگ روڈ پر نہیں ہوتے جو انہیں قانون کی دھجیاں بکھیرتی ہوئی یہ بسیں نظر نہیں آتیں ؟اصولی طور پر تو اِس محکمے کو بند کر دینا چاہیے کیونکہ ماحولیاتی آلودگی میں اضافہ کے حوالہ سےبراہ راست ذمہ دار ہیں ضلعی انتظامیہ کی خاموشی بھی معنی خیز ہے ؟ ملتان میں وسیع پیمانے پر کالونیوں کے نام پر درخت کاٹے گئے کیا اُسکے آدھے درخت بھی لگائے گئے ۔ میں صاحب اقتدار سے درخواست کرتا ہوں خدارا ہوش کے ناخن لیں اگر یہی صورتحال رہی تو مدینتہ الاولیاء ملتان کوئی خطرناک حد تک آلودہ ہونے سے کوئ نہیں روک سکے گا یہ ہمارا شہر ہے اسکے کے لئے ہم آواز نہیں اُٹھائیں گے تو کون اٹھائے گا ۔
اس ضمن میں ضلعی انتظامیہ کا فرض ہے ترجیحی بنیاد پر اس سنگینی کو محسوس کریں اور ماحولیاتی آلودگی کے تدارک کیلئے عملی اقدامات کیے جائیں کیونکہ گزشتہ 5 سالوں میں کی جانی والی شجرکاری بے نتیجہ رہی ہے اتنے بڑے پیمانے پر شجرکاری کے باوجود نہ تو ماحولیاتی آلودگی میں کمی آئی ہے نہ ہی شہریوں کو سرسبزوشاداب ملتان نظر آرہا ہے۔ہم ملتان کے باسی ہیں اپنے شہر کی شادابی اور ماحولیاتی آلودگی سے نجات چاہتے ہیں یہ تبھی ممکن ہے جب ہمارے ارباب اختیار سوشل میڈیا مہم سے باہر نکل کر عملی اقدامات کی طرف توجہ دینگے۔