اسلام آباد :  حکومت نے قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی (پی اے سی) کی چیئرمین شپ سنی اتحاد کونسل کو دینے کا فیصلہ کرلیا۔  ذرائع کا بتانا ہے کہ ن لیگ کو 12، سنی اتحاد کونسل کو 9 قائمہ کمیٹیوں کی سربراہی ملے گی جبکہ پیپلزپارٹی کو 7 کمیٹیوں کی سربراہی دی جائے گی۔جمعیت علماء اسلام ( جے یو آئی ) کو ایک قائمہ کمیٹی کی سربراہی ملے گی۔متحدہ قومی موومنٹ ( ایم کیو ایم ) کو 2 ، ق لیگ اور بی اے پی کو ایک ، ایک قائمہ کمیٹی کی سربراہی دی جائے گی۔سنی اتحاد کونسل نے شیخ وقاص اکرم کو چئیرمین پی اے سی کے لیے نامزد کررکھا ہے۔ اس سے قبل ذرائع کا بتانا تھا کہ پی اے سی میں حکومت کے 16 اور اپوزیشن بشمول سنی اتحاد کونسل کے  8 ارکان ہونے کا امکان ہے، ووٹنگ ہونے کی صورت میں حکومتی رکن با آسانی چیئرمین پی اے سی بن سکتا ہے۔ ذرائع قومی اسمبلی سیکریٹریٹ کا بتانا تھا کہ رولز یا قانون میں کہیں درج نہیں کہ چیئرمین پی اے سی اپوزیشن سے ہوگا مگر ماضی میں کبھی چیئرمین پی اے سی کے عہدے کے لیے ووٹنگ نہیں ہوئی۔