اسلام آباد: ملک بھر میں اعلانیہ یا غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کی وجہ سے شہری بے حال ہیں , وزیراعظم نے ملک میں طویل لوڈشیڈ نگ اور بجلی کی طلب و رسد کے حوالے سے اہم اجلاس طلب کرلیا۔  وزیراعظم میاں محمد شہباز شریف نے ملک میں لوڈشیڈنگ کے دورانیے، بجلی کی طلب و رسد سے متعلق اہم اجلاس طلب کیا ہے، جس میں وزارت پانی و بجلی کی جانب سے وزیراعظم کو تفصیلی بریفنگ دی جائے گی۔   شدید گرم موسم کے دوران بجلی کی بندش نے عوام کے صبر کا پیمانہ لبریز کردیا ہے۔ شہر قائد سمیت ملک کے کئی چھوٹے بڑے شہروں میں لوگ لوڈشیڈنگ کے خلاف احتجاجی مظاہرے کررہے ہیں۔ دوسری جانب کاروباری طبقے کا کہنا ہے کہ بجلی کی اعلانیہ اور غیر اعلانیہ بندش کی وجہ سے ان کا رہا سہا کاروبار بھی ٹھپ ہوکر رہ گیا ہے جب کہ بچوں کے لیے شدید گرمی میں پڑھنا دشوار ہو چکا ہے، اسی طرح گھریلو خواتین بھی بیشتر اوقات میں بجلی بند ہونے کی وجہ سے ذہنی کرب کا شکار ہیں۔ ملک کے بیشتر علاقوں میں لوڈشیڈنگ کا دورانیہ 18 گھنٹے تک بھی جا پہنچا ہے جب کہ رات کے اوقات میں بھی لوڈشیڈنگ کی وجہ سے شہریوں کے لیے آرام کرنا بھی دوبھر ہو چکا ہے۔ گزشتہ روز کراچی کے مختلف علاقوں میں شہری بجلی کی عدم فراہمی کے خلاف سڑکوں پر نکل آئے اور انہوں نے ٹائر جلا کر راستے بلاک کردیے، جس سے ٹریفک جام ہوا اور شہریوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ لوڈشیڈنگ کے ستائے شہریوں نے احتجاجی مظاہرے کے دوران سڑک کے دونوں ٹریک بند کرکے کے الیکٹرک کے خلاف نعرے بازی کی۔ اُدھر پشاور میں بھی بجلی کی اعلانیہ اور غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کی وجہ سے شہریوں نے احتجاج کرتے ہوئے پشاور ایم نائن سے چارسدہ تک موٹر وے بند کردیا۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ 12 سے 16 گھنٹے تک کی طویل لوڈشیڈنگ نے نظام زندگی درہم برہم کرکے رکھ دیا ہے۔