مارشل لاء کی جنگ

تحریر: طارق قریشی

تازہ ترین ملکی صورتحال کو اگر چند جملوں میں بیان کیا جائے تو ببانگ دہل کہا جا سکتا ہے کہ ملک میں مارشل لاء لگوانے اور اس سے بچنے کا دور چل رہا ہے۔ ایک جانب تحریک انصاف کی جانب سے فوجی قیادت پر مسلسل رکیک حملوں کے بعد سانحہ مشرقی پاکستان اور شیخ مجیب الرحمٰن کے حوالے دیکر نیز عدالتی گیلریوں سے ناپسندیدہ ریمارکس اور فیصلے دیکر فوج کو طیش دلانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ دوسری جانب عالمی ماحول کو مدنظر رکھتے ہوئے معاشی بحالی کے ایجنڈے کے تحت مسلسل صبر و تحمل کا مظاہرہ کیا جا رہا ہے صاف ظاہر ہو رہا ہے کہ فوج کو اقتدار کی باگ ڈور سنبھالنے میں تاحال کوئی دلچسپی نہیں ہے بلکہ وہ موجودہ سیاسی سیٹ اپ کو ہی برقرار رکھنا چاہتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حکومتی سائیڈ شاید اسی لئے مسلسل پی ٹی آئی کو مذاکرات کی دعوت دے رہی ہے۔ حالیہ دنوں میں حکومت نے پی ٹی آئی کو مذاکرات کی ایک اور پیشکش کردی ہے۔ جس میں حکومت نے وفاقی وزیر احسن اقبال کی زبان سے تحریک انصاف پر سڑکیں چھوڑ کر ایوان میں آنے، مثبت اپوزیشن کرنے اور 2029 تک انتظار کرنے کی شرائط بھی عائد کردی ہیں۔ اسی طرح ایوان صدر سے بھی تحریک انصاف کو بات چیت کا پیغام دیا گیا ہے۔ قائم مقام صدر سید یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ سیاسی مذاکرات کے لیے حاضر ہیں۔فیصلہ پی ٹی آئی نے کرنا ہےکہ وہ کس کے ساتھ مذاکرات کرنا چاہتے ہیں۔ یوسف رضا گیلانی کا کہنا تھا کہ ملک عدم استحکام کا شکار ہے، سیاست دانوں کا ایک پیج پر ہونا ضروری ہے، سیاسی عدم استحکام معاشی عدم استحکام کا جواز بنتا ہے ملک کو اس وقت بہت سے چیلنجز کا سامنا ہے، تمام اسٹیک ہولڈرز کو مل بیٹھ کر بات کرنا چاہیے۔ اسی تناظر میں مسلم لیگ ن کے رہنما اور وزیراعظم کے سیاسی مشیر رانا ثنا اللہ نے انکشاف کیا ہے کہ محاذ آرائی کے خاتمے اور عدلیہ سے متعلق امور کے حل کیلئے مذاکرات شروع ہوگئے ہیں۔ وزیراعظم اور پوری پارٹی لیڈر شپ کو عدلیہ سے متعلق معاملات پر تشویش ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ صورتحال کی بڑی وجہ بانی پی ٹی آئی کا مؤقف ہے جو سیاستدانوں کے ساتھ بات کرنے کو تیار نہیں ہیں حالانکہ ڈی جی آئی ایس پی آر پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ سیاستدان آپس میں بات کریں ہم سے بات کرنے کا کیا تعلق ہے۔ رانا ثناءاللہ کا کہنا ہے کہ ہماری طرف سے کوئی انا یا ہٹ دھرمی نہیں ہے دوسری طرف سے ہے ہم مذاکرات کی بات کریں تو وہ آگے سے گالیاں دیتے ہیں۔ سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کا کہنا ہے اسٹیبلشمنٹ کے سیاسی رول سے عمران خان کو کوئی مسئلہ نہیں ہے انہیں مسئلہ موجودہ اسٹیبلشمنٹ سے ہے جو اُن کے حق میں نہیں ہے۔ ان میں جمہوری جذبہ نہیں ہے۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ فوج کے ساتھ مستقل محاذ آرائی پر خود تحریک انصاف کے حلقوں میں بھی تشویش بڑھتی جارہی ہے۔ سوشل میڈیا پر گفتگو کرتے ہوئے سابق وفاقی وزیر شہریار آفریدی کا کہنا ہے کہ پارٹی میں کچھ چیزیں ایسی ہو رہی ہیں جس پر خاموش رہا جائے تو وہ مجرمانہ خاموشی کہلائی جائیں گی بانی پی ٹی آئی عمران خان کی عزت اور پارٹی کے اتحاد کے لیے خاموش ہوں میں جس کرب سے گزر رہا ہوں بتا نہیں سکتا۔ تاہم صحیح وقت آنے کا انتظار کر رہا ہوں۔ المختصر یہ کہ مذاکرات کی یکطرفہ حکومتی خواہش کے باوجود اگر گرم موسم کی طرح سیاسی و عدالتی گرما گرمی بھی جاری رہی اور نو مئی کے ملزمان کو ریلیف دینے کا سلسلہ جاری رہا تو ملک میں ایمرجنسی نہیں بلکہ پانچویں مارشل لاء کے نفاذ کو روکا نہیں جا سکے گا۔ خدانخواستہ اگر ایسا ہوا تو اس کا ایک لازمی نتیجہ بانی پی ٹی آئی کی جسمانی موت اور تحریک انصاف کی بندش کی صورت میں بھی نکل سکتا ہے۔ لہذا ابھی بھی وقت ہے کہ تحریک انصاف کے سنجیدہ حلقے خودکشی کے ٹریک سے واپس لوٹ آئیں۔