پشاور :  پشاور میں لوڈشیڈنگ پر وزیراعلیٰ کے پی نے دھمکی دی تو چیف پیسکومتعلقہ عملےکےساتھ گورنر ہاؤس پہنچ گئے وزیراعلیٰ کوصوبے میں لوڈشیڈنگ سےمتعلق بریفنگ دی گئی۔ پشاور الیکٹرک کمپنی (پیسکو) کے چیف انجینئر نے غیر اعلانیہ یا اضافی لوڈشیڈنگ نہ کرنے کی یقین دہانی کروا دی ۔ چیف پیسکو کی متعلقہ عملےکےساتھ گورنر ہاؤس آمد پر صوبے میں لوڈشیڈنگ کا نیا شیڈول جاری کرنے پر اتفاق ہو گیا، چیف پیسکوکی بجلی کی لوڈشیڈنگ کم کرنے اور لوگوں کو ریلیف فراہم کرنےکی یقین دہانی کروا دی۔ وزیر اعلیٰ کے ہی نے کہا کہ پیسکوحکام چیف سیکرٹری کےساتھ بیٹھ کر آج ہی ہی نیا شیڈول جاری کریں گے، لوڈ شیڈنگ کا نیا شیڈول تمام اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز اور ڈی پی اوز کو بھیجا جائے گا ، ممکنہ شیڈول کے مطابق 22 گھنٹوں کی لوڈشیڈنگ کم کر کے 18 گھنٹے اور 18 گھنٹوں کی لوڈ شیڈنگ کم کر کے 14 گھنٹے کی جائے گی۔ علی امین گنڈاپور نے کہا کہ اگر کسی گرڈ میں طے شدہ شیڈول سے ایک منٹ زیادہ کی بھی لوڈشیڈنگ ہو تو پیسکو کے متعلقہ ایکسیئن کے خلاف ایف آئی آر درج کی جائے۔ بجلی سے متعلق مسائل کے حل کے لئے وفاقی حکومت کے ساتھ بات کرنے کے لئے تیار ہیں، لیکن بات تب تک نہیں ہوسکتی جب تک صوبے کے عوام کو لوڈشیڈنگ کے حوالے سے فوری ریلیف نہ ملے۔ وزیر اعلیٰ کے پی نے کہا کہ بجلی کی فی یونٹ قیمت 16 روپے سے بڑھ کر 65 روپے کردی گئی ہےاس کے باوجود شہریوں کو بجلی نہیں مل رہی، بجلی کی ٹرانسمیشن کا نظام بھی ٹھیک ہو رہا ہے، صوبے میں لائن لاسز کی ذمہ دار وفاقی حکومت اور پیسکو ہے صوبے کو بجلی لوڈ شیڈنگ کی شکل میں سزا دینا کسی صورت قابل قبول نہیں،، اگر لوگوں کو فوری ریلیف نہ ملا تو صوبے میں امن و امان کے سنجیدہ مسائل جنم لینے کا خدشہ ہے۔ علی امین گنڈاپور نے کہا کہ صوبائی حکومت اپنے بقایا جات سے کٹوتی کروا کر اپنے لوگوں کو ریلیف دینا چاہتی ہےصوبائی حکومت ریکوری اور میٹرنگ کے سلسلے میں بھی وفاقی حکومت کو تعاون فراہم کرنے کے لئے تیار ہے بجلی سے جڑے معاملات پر آگے بڑھنے کے لئے وفاقی وزیر توانائی کو پرسوں سی ایم ہاؤس آنے کی دعوت دی ہے۔ واضح رہے کہ علی امین گنڈاپور نے گذشتہ روز پشاور الیکٹرک پر قبضہ کرنے کی دھمکی دیتے ہوئے کہا تھا کہ لوڈشیڈنگ کم نہ ہوئی تو پیسکو پر قبضہ کرکے لوڈ شیڈنگ شیڈول خود بنائیں گے۔