تسلی رکھیں اللہ آپ کا نگہبان ہو گا

تحریر: ریاض کھوکھر
راۓ محمد محمود صاحب بین الاقوامی شہرت یافتہ قاری خوشی محمد الازہری کے صاحبزادے ہیں اور یہ وہ فیملی ہے جو مڈل کلاس سے تعلق رکھتی تھی اور آج بھی الحمدللہ اسی مڈل کلاس فیملی سے ہی ہیں اور اللہ تعالی نے ان کو جو شان دی ہے وہ یہ ہے بین الاقوامی سطح پر قران سے محبت کرنے والے اور قران کی ترویج اور اشاعت کرنے والے خاندان سے ان کا تعلق ہے بڑے ہی عاجزی اور انکساری کا منبع ہیں آج بھی گاؤں میں ان کی وہی وراثت ہے جو باپ دادا سے چلی آ رہی ہے۔
اچھے محنتی اور اپنے کام سے مخلص اور ایماندار انسان کو ٹارگٹ کرنا یہ نہ کوئی نئی بات ہے اور نہ ہی یہ پہلی بار ہوا ہے بدقسمتی سے ملک پاکستان میں یہ المیہ ہے کہ جو انسان بھی اچھا کام کرتا ہے اور اچھا کام کرنے کی خواہش رکھتا ہے اسے ٹارگٹ بھی کیا جاتا ہے اور اس کا میڈیا ٹرائل بھی کیا جاتا ہے الحمدللہ ہم لوگ اس فیملی کو اور رائے صاحب کو بڑی اچھی طرح جانتے ہیں ۔ ایماندار،مخلص اور ویلفیئر کے کاموں میں اپنے رزقِ حلال سے ہردم حصہ لیتے ہیں۔
رہی بات نندی پور پروجیکٹ والی تو وہ آج بھی بڑے اچھے طریقے سے چل رہا ہے اور کہیں بھی آج تک اس میں کوئی کرپشن ثابت نہیں کر سکا اور نہ ہی ان شاءاللہ ثابت کر سکے گا۔
اسی طرح رنگ روڈ ، راولپنڈی جس پر اس وقت بہت بڑا شور اٹھا تھا جسے متنازعہ بنادیا گیا تھا اور آج بھی رنگ روڈ نہ بننے کی وجہ سے مسائل کا شکار ہیں۔
البتہ اس کی پاداش میں راۓ صاحب کو ناحق چھ ماہ کی قید برداشت کرنا پڑی۔ جس کے بعد معزز عدلیہ نے انہیں نہ صرف باعزت بری کیا بلکہ اعلی ترین محکمانہ انکوائری میں بے گناہ بھی ثابت ہوۓ۔
ہمیں امید ہے کہ ان شاءاللہ یہ جو حالیہ گندم بحران پر راۓ صاحب کو ٹارگٹ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے اس میں بھی وہ ان شاءاللہ عنقریب اللہ تعالی کی مہربانی سے سرخرو ہوں گے۔
البتہ فوڈ سکیورٹی سے ٹرانسفر ہونے کے بعد وہ اس تمام عمل کے ذمہ دار نہیں۔

بھلا آپ خود سوچیں جب آپ جیسے آفیسر کی محفل میں غریب، مظلوم کے لیے ہمہ وقت دادرسی اور ظالم کتنا ہی طاقت ور کیوں نہ ہو اس کے لیے کوئی رعایت نہ ہو۔۔۔ آپ کیسے سکون سے رہ سکتے ہیں۔؟
جہاں آپ کی زبان سے بھائی، دوست، میری درخواست ہے، میں ممنون رہوں گا۔ میرا مشورہ ہے اور آپ دوستوں کا شکریہ جیسے الفاظ ہوں گے تو آپ کہاں کے نوکرشاہی کا حصہ شمار ہوں گے۔
آپ جیسے قابل اور محنتی افسر بھلا اس نظام کے لیے کیسے قابل قبول ہو سکتے ہیں؟ آپ کا سروس ریکارڈ اس بات کا ثبوت نہیں کہ آپ دن رات متحرک رہتے ہیں؟ اور عوام کے مسائل کے حل کی بات نہ صرف کرتے ہیں بلکہ ہر ممکن مدد بھی کرتے ہیں۔
آپ کا یہ جرم کیا کم ہے جو آپ پھر بھی اس بوسیدہ اور گلے سڑے نظام میں بھی دن رات فرائض کی ادائیگی میں سرگرداں رہتے ہیں۔
آپ جیسے نڈر اور بے باک آفیسر ہی ہماری بیوروکریسی کے ماتھے کا جھومر ہیں۔ اور آپ اس بے باک اور حق کو حق کہنے اور جھوٹ کو جھوٹ کہنے والے قافلہ میں اکیلے نہیں ہیں۔
کتنے ہی قابل اور محنتی آفیسر اس گلے سڑے نظام میں بے رحم میڈیا ٹرائل اور محکمانہ کمزوریوں کی وجہ سے اپنی صلاحیتوں کا بہترین وقت اپنی صفائیاں دیتے رہ گے۔
آپ کا ذاتی کردار چمکتے ہوۓ سورج کی مانند ہے اور اس کی روشنی سے کتنے ہی لوگ فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ ذاتی اور آفیشلی بھی۔ کسی کو آپ کے کردار پر انگلی اٹھانے کی جرات نہیں ہو سکتی۔۔۔
لیکن آپ جس محکمہ میں جاتے ہیں آپ کی اصول پسندی اور میرٹ پر فیصلہ سازی کرنا اور سونے پہ سہاگہ جی حضوری کی عادت نہ ہونا ایسی کمزوری بن جاتی ہے جہاں حاسدین آپ کو آسان ٹارگٹ سمجھتے ہوۓ اپنی خباثت سے باز نہیں آتے۔

کوئی بھی کام اتنا پرفیکٹ نہ کریں کہ وہ آپ کی بعد میں مجبوری بن جاۓ۔ حقیقت ہے کہ استحصالی عناصر جہاں بھی ہوں اپنے مذموم مقاصد کے حصول کے لیے یا تو داب ناجائز کو استعمال میں لاتے ہیں یا پھر کام سے عشق کی حد تک لگاؤ رکھنے والوں کو چکی کی مشقت کی طرح اتنا مصروف رکھتے ہیں کہ انجام کار ان کا حوصلہ ہی نہیں وہ خود بھی ہار جاتے ہیں۔
جو دکھتا ہے وہ بکتا ہے کے مصداق جتنا آپ اس عمر میں بھی مصروف رہتے ہیں اور اپنے فرائض کی بجاآوری میں نہ دن دیکھتے ہیں نہ رات دیکھتے ہیں یقیناً آپ جیسے لوگ ہی حکمرانوں کو قربانی کا بکرا بنانے کے لیے درکار ہوتے ہیں۔ اور یہ شیوا نیا نہیں ہے۔
آپ کے پاس بھی اب دو راستے ہیں یا تو ان لوگوں کی طرح ہو جائیں جنہوں نے حکومتی داماد بن کر کسی کام کو ہاتھ نہیں لگاتے اور کمفرٹیبل زون میں رہتے ہوۓ مراعات اور پروٹوکول انجواۓ کرتے ہیں یا پھر جس طرح آپ جیسے لوگ ملکی نظام کو اپنی دانشمندانہ صلاحیتوں کے ساتھ نہ صرف چلا رہے ہیں بلکہ اس کی ٹھیک ٹھاک قیمت بھی چکا رہے ہیں۔ اس راستے پر ڈٹے رہیں۔ جو اصول و ضوابط آپ پر لاگو ہوتے ہیں ان کی پابندی کریں۔ آپ جیسے باصلاحیت اور باکردار لوگوں کی اس ملک کو بہت ضرورت ہے
تسلی رکھیں اللہ آپ کا نگہبان ہو گا
امید ہے کہ اللہ انہیں اس حالیہ ناکردہ بحران سے بھی اپنی توفیق اور رحمت سے سرخرو کرے گا۔ ان شاءاللہ
رائے صاحب اور آپ کی فیملی کا محنتی ہونا مخلص ہونا وطن کے ساتھ وفادار ہونا اور رزقِ حلال کمانا اور رزق حلال کے اندر قناعت کرنا یہ وہ خوبیاں ہیں کہ جن کے سبب اللہ تعالی نے پہلے بھی انہیں ان مسائل سے نکالا ہے اور اب بھی ان شاءاللہ، اللہ کی ذات انہیں سرخرو کرے گی ہم ان کے لیے دعا گو ہیں۔