نئے حکومتی سیٹ اپ میں “کون بنے گا کروڑ پتی” ممکنہ حکومتی سیٹ اپ کے خدوخال واضح ہوگئے

تحریر: طارق محمود قریشی

مسلم لیگ (ن)، پیپلز پارٹی، ایم کیو ایم اور مسلم لیگ (ق) وغیرہ میں شراکت اقتدار کا فارمولہ طے پانے کے بعد ملک بھر کے سیاسی حلقوں میں آیندہ حکومتی عہدیداروں کی تعیناتیوں کے حوالے سے انڈین فلم سٹار امیتابھ بچن کے ایک معروف گیم شو پروگرام کے مشہور زمانہ ڈائیلاگ کون بنے گا کروڑ پتی کی تکرار شروع ہوگئی ہے۔ سوال یہ پوچھا جا رہا ہے کہ کس کرسی پر کون براجمان ہوگا۔ اب تک کی صورتحال سے واضح ہو رہا ہے کہ نئے حکومتی سیٹ اپ میں ممکنہ طور پر پیپلز پارٹی کے آصف علی زرداری صدر مملکت، نواز لیگ کے میاں شہباز شریف وزیراعظم، پیپلز پارٹی کے سید یوسف رضا گیلانی چیئرمین سینیٹ، نواز لیگ کے اسحاق ڈار سپیکر قومی اسمبلی ہوں گے۔ ڈپٹی چیئرمین سینیٹ اور ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی کیلئے ابھی صورتحال غیر واضح ہے۔ تاہم غالب امکان ہے کہ ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی کے عہدے پر پیپلز پارٹی کسی خاتون رہنما کو نامزد کرے گی۔ اسی طرح پیپلز پارٹی پر چیک رکھنے کیلے نواز لیگ ممکنہ طور ایم کیو ایم کے نمائندے کو ڈپٹی چیئرمین سینیٹ نامزد کر سکتی ہے۔ تاہم اس عہدے پر فرشتوں کا کوئی چہیتا بھی سامنے آ سکتا ہے۔ گورنر پنجاب کیلئے پیپلز پارٹی مخدوم احمد محمود، ندیم افضل چن اور قمر الزمان کائرہ میں سے کسی ایک کو نامزد کرے گی۔ پارٹی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی تازہ سیاسی سرشت کو دیکھتے ہوئے، سیاسی تقاضوں اور سیاسی خاندانوں سے قریبی روابط کی بنا پر عوامی سیاست کرنے والے ندیم افضل چن کے گورنر پنجاب بننے کا زیادہ امکان ہے۔ تاکہ وہ گورنر ہاؤس میں بیٹھ کے پیپلز پارٹی کو پنجاب میں زندہ کرنے کا فریضہ سر انجام دے سکئں۔ایسی صورت میں قمر الزمان کائرہ کو گھپانا پیپلز پارٹی کیلئے ایک مسئلہ ہوگا۔ شاید انہیں پارٹی کا صوبائی صدر بنا دیا جائے۔ سندھ کا گورنر بدستور ایم کیو ایم سے لیا جائے گا۔ مسلم لیگ یہ قربانی بھی دے گی۔ خیبر پختونخوا کی گورنری پی ٹی آئی کے کسی منحرف رہنما یا اے این پی کو دی جا سکتی ہے جبکہ بلوچستان کا گورنر مولانا فضل الرحمن کو منائے جانے کی صورت میں جمعیت علماء اسلام سے لیا جا سکتا ہے۔ جس کیلئے پس پردہ مذاکرات چل رہے ہیں۔ صوبائی سطح پر پنجاب کی وزیر اعلی مسلم لیگ (ن) کی محترمہ مریم نواز، سندھ کے وزیر اعلی پیپلز پارٹی کے مراد علی شاہ، بلوچستان کے وزیر اعلی پیپلز پارٹی کے سرفراز بگٹی اور خیبر پختونخوا کے وزیر اعلی تحریک انصاف کے علی آمین گنڈا پور ہوں گے۔ ادھر سپیکر پنجاب اسمبلی کیلۓ مجتبی شجاع الرحمن کا نام سرفہرست ہے جبکہ نامزد وزیر اعلی مریم نواز ترجمان پی ایم ایل عظمی بخاری کو اس عہدے پر دیکھنا چاھتی ھیں۔