الحمداللہ
نئے حکومتی سیٹ اپ بارے تجزیہ درست نکلا

( تحریر: طارق قریشی )

منگل اکیس فروری کو آٹھ فروری کے حالیہ عام انتخابات کے بعد نئے حکومتی سیٹ اپ بارے آخر کار منقسم مینڈیٹ کے باعث مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے درمیان شراکت اقتدار کا فارمولہ طے پا گیا ہے۔ جس کے نتیجے میں وفاق اور چاروں صوبوں میں سو فیصد وہی حکومتیں بننے جا رہی ہیں جس کی تجزیاتی پیش گوئی اس خادم نے اپنے29 جنوری کو شائع ہونے والے کالم میں پہلے سے کر دی تھی۔ اس کے ساتھ ساتھ سابق وزیراعظم عمران خان کو کسی کیش میں سزا سنائے جانے کی پیش گوئی تو کالم کی اشاعت کے صرف دو روز بعد توشہ خانہ کیش میں دس سال کی سزا کے ساتھ پہلے سے درست نکل چکی ہے۔ عوام و الناس، سیاسی شخصیات اور اپنے بہی خواہوں کی یاد دہانی کیلئے متذکرہ کالم کی متعلقہ تحریر یہاں ہو بہو دہرا رہا ہوں۔ ( مختلف ذرائع سے حاصل کردہ معلومات کے مطابق ممکنہ طور پر مرکز اور پنجاب میں مسلم لیگ(ن) کی قیادت میں حکومت بننے جا رہی ہے۔ صوبہ سندھ اور بلوچستان میں پیپلز پارٹی کی صوبائی حکومتیں قائم ہونگی۔ صوبہ خیبر پختونخوا میں تحریک انصاف کی قیادت میں اتحادی حکومت قائم ہوگی۔ جس کا بعد ازاں عمران خان سے بھی تعلق نہ رہے گا۔ کیونکہ ممکنہ طور پر آٹھ فروری سے قبل عمران خان کسی کیس میں سزا یافتہ ہو جائیں گے۔