امید پاکستان
تحریر غلام رسول بلوچ
پاکستان یوتھ کے لحاظ سے 65 فیصد تقریبآ آ بادی والا ملک ہے۔یہ یوتھ پاکستان کا مستقبل ہے اسی یوتھ نے آ گے چل کے اس ملک کے مختلف شعبہ جات میں اپنی زمہ داریاں سنبھالنی ہے۔حکومت یوتھ کے لئیے ایسے پروگرام پروگرام مرتب کرے جس سے یہ یوتھ آ گے چل کر ملک کے لئیے اپنی اپنی فیلڈ میں خدمات سر انجام دے سکے۔پاکستانی قوم کو اللہ تعالیٰ نے بے پناہ صلاحیتوں سے نوازا ہے ۔اس قوم اور اس ملک کی یوتھ کی کیرئیر کونسلنگ کے لئیے بھی پروگرامز مرتب کئیے جائیں اور تعلیمی میدانوں میں انہیں بہم سہولیات فراہم کی جائیں ۔ہنر مند ایجوکیشن پروگرامز میں بھی انہیں خاص ایجوکیٹ کرنا ضروری ہے تعلیمی معیار کو ملک بھر میں بہتر بنانا ہو گا۔تعلیمی اداروں کو سفارشی کلچر سے پاک کرنا بھی ضروری ہے۔
پچھلے دنوں پاکستان آ رمی چیف اور ڈی جی آ ئ نے بھی یوتھ کنونشن اسلام آ باد میں نوجوانوں اور طلباء کے ساتھ گفتگو کی جس سے طلباء کا اعتماد بحال ہوا اور کئ خدشات و تحفظات دور ہوئے ۔
سوشل میڈیا اور پروپیگنڈہ وار کے اس زمانے میں کسی بھی قوم میں فساد اور انتشار ڈالنے کے لئیے جھوٹے اور بے بنیاد سوشل میڈیا مہمات کے ذریعے گمراہ کرنے کی کوشش کی جاتی ہے اور عوام میں بدگمانی پھیلانے کی کوشش کی جاتی ہے اس سے بچنا اور بالخصوص پاکستان کی نوجوان نسل کا بچنا بہت ضروری ہے۔
پاکستان کی یوتھ اپنی تعلیمی سرگرمیوں پہ بھر پور توجہ دےکر اپنے گولز سیٹ کر کے اپنے ملک کے لئیے بہترین خدمات انجام دے سکتی ہیں ۔اس کے لئیے ریاست کو بھی اپنی زمہ داریوں کا احساس کرنا ہو گا۔
پاکستان جن مسائل اور بحرانوں کا شکار ہے اس کے حل کے لئیے حکومت اور قوم کو مل جل کر اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے ہمیں اپنی یوتھ کی صلاحیتوں کو نکھارنے کی ضرورت ہے یوتھ کو دشمنوں کے منفی پروپیگنڈوں سے بچا کر مثبت اپروچ کی طرف لے جانے کی ضرورت ہے ۔پاکستان کے خوبصورت اور مثبت چہرے کو اجاگر کرنے کے لئیے سب کو عملی طور پہ میدان میں کام کرنا ہو گا۔نوجوان پاکستان کا مستقبل ہیں انہیں پاکستان کی تاریخ اور ملک کے لئیے قربانیاں دینے والوں کے بیانیے کے ساتھ لیکر چلنے کی ضرورت ہے۔ آ زادی ایک بہت بڑی نعمت ہے اور پاکستان اس قوم کے لئیے اللہ رب العزت کی طرف سے تحفہ ہے اس کی قدر و منزلت کو سمجھنا ہو گا۔
الیکشن ہونے والے ہیں ایک نئ اور مثبت سوچ کے ساتھ ایک تحریک بن کر پاکستان کی خدمت کرنی ہو گی۔
پاکستان کے دشمن ہمیں تقسیم کرنے اور اپنے اداروں۔ کے خلاف لڑانے کی پالیسی پہ عمل پیرا ہیں دشمنوں کی ان سازشوں کا مقابلہ ہم سب نے ملکر کرنا ہے۔اپنے گردو نواح میں اپنے لوگوں میں تمام سیاسی جماعتوں اور ان کے نمائندوں کو مسائل کے حل کے لئیے ترجیحی بنیادوں پہ کام کرنا ہو گا۔
ملکی مفادات اس قوم کی پہلی ترجیح ہونے چاہئیں۔پاکستان کی ترقی اور تعمیر میں سب کا کردار لازم ہے۔
پاکستان کی یوتھ ملک کے اندر انقلابی تبدیلیاں لا سکتی ہے اگر اسکی صلاحیتوں کا بہتر استعمال ہو ۔
الیکشن کے بعد جو بھی حکومت بنے اسے سب سے پہلے پاکستان کے مفادات کو ترجیحی بنیادوں پر کام کرنے کی ضرورت ہے۔اللہ تعالیٰ نے اس ملک کو بے پناہ وسائل سے نوازا ہے اان سے استفادہ حاصل کر کے پاکستان ترقی یافتہ ممالک کی صف میں کھڑا ہو سکتا ہے ۔اس قوم کو اپنے ملک کے ساتھ مخلص ہونے کی ضرورت ہے ۔
اچھی یونیورسٹیز اور اچھے اداروں میں پاکستان کے قابل اور ہنر مند افراد اپنی یوتھ کی بہترین گرومنگ کر سکتے ہیں ۔اس ملک کو کرپشن ٫دہشت گردی اور سفارشی کلچر سے نجات دلانے کی ضرورت ہے اس کے لئیے قوم کا متحد ہونا ضروری ہے ۔یکجہتی کے ساتھ یہ ملک آ گے بڑھ سکتا ہے ۔
حالات جیسے بھی ہوں قومیں ہمیشہ مشکل حالات سے ابھرتی ہیں اور ترقی کرتی ہیں ۔پاکستانی قوم کو ایک پاکستانی بن کر ابھرنا ہوگا ہماری بقاء اور تحفظ قومی یکجہتی میں ہے۔