پولنگ سکیم کے بعد آٹھ فروری کا ممکنہ نتیجہ

 تحریر: طارق قریشی

عام انتخابات کے لیے الیکشن کمیشن نے پولنگ اسکیم کی سمری جاری کر دی ہے۔ جس سے جہاں الیکشن کے انعقاد بارے پھیلے شکوک و شبہات کا خاتمہ ہو گیا ہے وہیں سیاسی جماعتوں اور امیدواروں کی انتخابی مہم میں بھی تیزی آ گئی ہے۔ اسی کے ساتھ سیاسی پنڈتوں نے آٹھ فروری کے ممکنہ نتائج بارے پیش گوئیاں کرنا بھی شروع کر دی ہیں۔ مختلف ذرائع سے حاصل کردہ معلومات کے مطابق ممکنہ طور پر مرکز اور پنجاب میں مسلم لیگ(ن) کی قیادت میں حکومت بننے جا رہی ہے۔ صوبہ سندھ اور بلوچستان میں پیپلز پارٹی کی صوبائی حکومتیں قائم ہونگی۔ صوبہ خیبر پختونخوا میں تحریک انصاف کی قیادت میں اتحادی حکومت قائم ہوگی۔ جس کا بعد ازاں عمران خان سے بھی تعلق نہ رہے گا۔ کیونکہ ممکنہ طور پر آٹھ فروری سے قبل عمران خان کسی کیش میں سزا یافتہ ہو جائیں گے۔ واضح رہے کہ الیکشن کمیشن کی جاری کردہ پولنگ سکیم کے مطابق آٹھ فروری کے عام انتخابات کیلئے ملک بھر میں کل 90 ہزار 675 پولنگ اسٹیشنز قائم کیے گئے ہیں،جن میں مردوں کے 25 ہزار 320 اور خواتین کے 23 ہزار 950 پولنگ اسٹیشنز ہوں گے۔ جبکہ 41 ہزار 405 مشترکہ پولنگ اسٹیشنز بھی ہوں گے۔ پنجاب میں 50 ہزار 944 پولنگ اسٹیشنز ہوں گے۔ جن میں مردوں کے 14 ہزار 556 اور خواتین کے 14 ہزار 36 پولنگ اسٹیشن ہوں گے۔ پنجاب میں 22 ہزار 352 مشترکہ پولنگ اسٹیشنز ہوں گے۔ سندھ میں 19 ہزار 6 پولنگ اسٹیشنز ہوں گے۔ جن میں مردوں کے 4 ہزار 439،خواتین کے 4 ہزار 308 پولنگ اسٹیشنز ہوں گے ، صوبے میں 10 ہزار 259 مشترکہ پولنگ اسٹیشنز ہوں گے۔ خیبرپختونخوا میں 15 ہزار 697 پولنگ اسٹیشنز ہوں گے ، جن میں مردوں کے 4 ہزار 814،خواتین کے 4 ہزار 289 پولنگ اسٹیشنز ہوں گے۔ صوبے میں 6 ہزار 594 مشترکہ پولنگ اسٹیشنز ہوں گے۔ بلوچستان میں 5 ہزار 28 پولنگ اسٹیشنز ہوں گے، جن میں مردوں کے 1511 اور خواتین کے 1317 پولنگ اسٹیشنز ہوں گے ، صوبے میں 2 ہزار 200 مشترکہ پولنگ اسٹیشنز ہوں گے۔ الیکشن کمیشن کے مطابق ملک میں 2 لاکھ 76 ہزار 402 پولنگ بوتھ ہوں گے ،جن میں مردوں کے 1 لاکھ 47 ہزار 560 اور خواتین کےلیے 1 لاکھ 27 ہزار 842 پولنگ بوتھ ہوں گے۔