ملتان (صفدربخاری سے) ملتان کسٹم کلکٹریٹ انفورسمنٹ نے خطے میں قانونی تجارتی کو فروغ ددینے اور سہولیات کی فراہمی کے لئے خصوصی ڈیسک قائم کرنےکا فیصلہ کیا ہے تاکہ خطے میں قانونی تجارت کو فروغ دیکر سمگلنگ کا مکمل خاتمہ کیا جاسکےاور اس سلسلے میں کسٹم آفس میں مانیٹرنگ سیل بھی قائم کیا جائےگا جس کا مقصد سمگلنگ کی روک تھام ہے ،ملتان کسٹم کلکٹر یٹ نے سمگلنگ انفورسمنٹ کرتے ہوئے اپنی حدود میں 3کروڑ20لاکھ 21ہزار مالیت سے زائد کا نان کسٹم پیڈسامان اور گاڑیاں ضبط کی ہیں ، ان خیالات کا اظہار کلکٹر کسٹم انفورسمنٹ ملتان سید عمران سجادبخاری نے ایڈیشنل کلکٹر شاہ فیصل سہو ، اسسٹنٹ کلکٹر مریم جمیل اور اسسٹنٹ کلکٹر حبیب الرحمن کے ہمراہ کسٹم ہائوس میں خصوصی پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا ، انہوں نے بتایا کہ ملتان کسٹم انفورسمنٹ نے انٹرنیشنل ایئرپورٹ پربھی سخت نگرانی کرتے ہوئے حالیہ دنوں میں امپورٹڈ آئی فونز سمیت مختلف اشیا کو ضبط کیا ہے ملتان انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر ہر ممنوع چیز کو لانے کی اجازت نہیں ہے اور کسٹم انفورسمنٹ کی ٹیموں سمیت مختلف قانون نافذ کرنے والے ادارے اپنے فرائض انجام دے رہے ہیں جس کے باعث ملتان انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر بہترانداز میں مانیٹرنگ کی جارہی ہے اور سمگلنگ آسان نہیں  ہے کہ کوئی بھی چیز لیکر آپ گزر جائیں ،انہوں نے بتایا کہ کسٹم کلکٹریٹ کی جانب سے جنوبی پنجاب میں سمگلنگ کی روک تھام کے لئے موثر پالیسی اپنائی گئی ہے جس کے تحت برے پیمانے پر نان کسٹم پیڈ19گاریاںجن کی مالیت ایک کروڑ 69لاکھ 5ہزار روپے سے زائد ہے اور 4مال بردار گاڑیاں ، بڑے پیمانے پر غیر ملکی کرنسی ،سونا، 183موبائل فونز اور متفرق دیگر اشیا پکڑی گئی ہیں ، کسٹم کسی کو بھی قانونی طور پر تنگ نہیں کرتا لوگ صرف قانون پر عملدرآمد کرتے ہوئے نان کسٹم پیڈ اشیا کی خرید وفروخت اور کاروبار سے گریز کریں ، کلکٹرنےمزید بتایا کہ بہت جلد تاجروں،ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن اور کاروباری تنظیموں کے ساتھ کسٹم کلکٹریٹ ایک باہمی مشاورت کا اجلاس بھی منعقد کرےگی جس کا مقصد قانون پر عملدرآمد کو یقینی بناتے قانونی تجارت کو فروغ دینا ہوگا تاکہ حکومتی ٹیکس ریونیو میں اضافہ کیا جاسکے اور اس وقت بھی کسٹم کی جانب سے مصدقہ اطلاعات پر گوداموں میں کریک ڈائون کیا جارہاہے حالیہ کریک ڈائون سے سمگلنگ میں ایک بڑی حد تک کمی رونما ہوئی ہے جس کی وجہ سے ملک میں قانونی تجارت کو فروغ ملا ہے اور سمگلنگ کا قلع قمع کرکے ہی دم لیں گے