کراچی: پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ  شفاف الیکشن میں آج تک کبھی مسلم لیگ (ن) کو اقتدار نہیں ملا، ن لیگ ہمیشہ دھاندلی کے ذریعے اقتدار میں آئی، اگلے وزیر اعظم کا ڈومیسائل انشاء الله صوبہ سندھ سے ہوگا۔ بلاول ہاؤس کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے شرجیل میمن کا کہنا تھا کہ آنے والا سال پیپلز پارٹی کا سال ہوگا۔ پیپلز پارٹی کی  حکومت سندھ نے بہت کام کیے ہیں، جبر و ظلم برداشت کیے لیکن میدان کبھی نہیں چھوڑا۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی قائد کا کام ہوتا ہے کہ وہ ہمیشہ عوام میں رہے، ماضی کی روایتیں سب کے سامنے ہیں۔ شرجیل میمن  نے کہا کہ سندھ میں ایس آئی یو ٹی جیسے رول ماڈل اسپتال موجود ہیں۔ مسلم لیگ ( ن ) نے پنجاب میں ایک اسپتال تک نہیں بنایا۔ سندھ کے دیہی اور شہری علاقوں میں پیپلز پارٹی نے کام کروائے، پیپلز پارٹی نے ہمیشہ تاریخی کام کیے ہیں، پیپلز پارٹی سندھ میں اکیس لاکھ لوگوں کو گھر بنا کر دے رہی ہے، بارشیں تو پنجاب میں بھی ہوئی تھیں، مسلم لیگ ن بتائے کہ اس نے پنجاب میں کتنے لوگوں کو گھر بنا کر دیے ہیں۔ شرجیل انعام میمن نے کہا کہ اسلامی ٹچ کے دعوے کرنے والا عمران خان مسلمانوں کی شہادتوں پر خوشیاں منا رہا ہے، پی ٹی آئی حکومت نے ملک کی معیشت تباہ کر دی، 2018 میں پاکستان پر ایک نااہل کو تھوپا گیا تھا، ہم نہیں چاہتے کہ 2024 میں بھی ملک پر ایسے لوگ تھوپے جائیں جو ملک کی فلاح و بہبود نہیں چاہتے اور مشکل وقت میں عوام کو چھوڑ کر بیرون ملک چلے جاتے ہیں، 2024 کے انتخابات میں عوام کا ووٹ فیصلہ کرے گا اور کوئی نااہل شخص ملک پر تھوپا نہیں جائے گا۔ نااہل جماعتوں کو عوام مسترد کردیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ سندھ میں برسات کے موقع پر آنے والے ہمیشہ سندھ کو لوٹ کر جاتے ہیں۔ مسلم لیگ (ن) کو صرف الیکشن کے دنوں میں ہی سندھ یاد آتا ہے، جب بھی مسلم لیگ ن اقتدار میں ہوتی ہے تو اسے سندھ کا کوئی خیال نہیں آتا۔ شرجیل انعام میمن نے کہا کہ عام انتخابات کے بعد وزیراعظم پیپلز پارٹی کا ہوگا، سندھ میں ہر الیکشن کے دوران پاکستان پیپلز پارٹی کے خلاف اتحاد بنانے کی کوشش کی جاتی ہے، صفر جمع صفر کا نتیجہ صفر ہی ہوتا ہے، سندھ میں برسات کے موقع پر آنے والے ہمیشہ ناکام ہوتے ہیں۔ اس بار مقابلہ دیہی سندھ کے ساتھ شہری سندھ میں بھی نہیں، آئندہ الیکشن میں مقابلہ سندھ نہیں وسطی پنجاب میں ہوگا۔ شرجیل انعام میمن کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی کی حکومت نے ملک میں تاریخی کام کیے ہیں۔ بلاول بھٹو نے ملک کو پہچان دی ہے۔ ہماری جماعت کہتی ہے ہمیں ایڈ نہیں ٹریڈ چاہیے۔ انہوں نے  کہا کہ اقتدار میں وہی جماعتیں آئیں گی جو عوام کے درمیان ہوں گی۔ آج تک کبھی شفاف الیکشن میں مسلم لیگ (ن) کو اقتدار نہیں ملا۔ مسلم لیگ (ن) ہمیشہ دھاندلی کے ذریعے اقتدار میں آئی۔ ان کا کہنا تھا کہ چاہتے ہیں ماضی کی تلخیوں کو بھلا کر آگے چلا جائے۔ تقسیم کی بات پی ٹی آئی، مسلم لیگ ن اور کراچی کی جماعت نے کی پیپلز پارٹی نے ہمیشہ ملک کو جوڑنے کی بات کی ہے۔ اقتدار کی ہوس کےلیے بھائی کو بھائی سے لڑانے کی سیاست نہیں کی۔ انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) ڈیڑھ سال میں معیشت ٹھیک کرنے میں ناکام ہوئی، پنجاب میں مسلم لیگ ن اتنی ناکام ہو چکی ہے کہ لوگ وہاں سے علاج کے لیے سندھ آتے ہیں، جگر اور گردے کے ٹرانسپلانٹ کے لیے لوگ پہلے بھارت جاتے تھے لیکن اب سندھ آتے ہیں، صحت کے شعبے میں ماسوائے پیپلز پارٹی کے کسی بھی جماعت نے گراں قدر خدمات سرانجام نہیں دی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آصف علی زرداری کا دل بہت بڑا ہے، انہوں نے دنیا پر احسانات کیے ہیں، جب عمران خان بول رہے تھے کہ ان کی حکومت کو وائٹ ہاؤس نےگرایا ہے تو اس وقت بھی آصف علی زرداری کہہ رہے تھے کہ عمران خان کی حکومت وائیٹ ہاؤس نے نہیں بلاول ہاؤس نے گرائی ہے۔ شرجیل انعام میمن نے کہا کہ پی ڈی ایم کا اتحاد بلاول بھٹو زرداری نے بنوایا تھا، پی ڈی ایم بننے سے پہلے مسلم لیگ ن کی قیادت تو بیان بھی نہیں دے سکتی تھی، لیکن بعد ازاں پی ڈی ایم میں سازشیں شروع ہو گئیں اور ہمیں اسمبلیوں سے مستعفی ہونے کا کہا گیا۔پیپلز پارٹی نے سیاسی بصیرت کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس کی مخالفت کی ، اگر ہم اسمبلیوں سے مستعفی ہو جاتے تو عمران خان کو پانچ سال حکومت کرنے کا موقع مل جاتا اور ملکی معیشت مکمل طور پر تباہ ہو جاتی۔ پریس کانفرنس کے  دوران شرجیل انعام میمن نے ہندو برداری کو دیوالی  کی مبارکباد بھی دی۔