سوئی گیس اور بجلی: بنیادی سہولت یا عوام کے لیے سزا؟
سوئی گیس اور بجلی: بنیادی سہولت یا عوام کے لیے سزا؟
تحریر: کلب عابد خان
03009635323
کبھی سوئی گیس اور بجلی کو بنیادی انسانی ضرورت سمجھا جاتا تھا، آج یہی سہولتیں عام آدمی کے لیے ایک سزا بنتی جا رہی ہیں۔ پاکستان میں بڑھتی مہنگائی پہلے ہی عوام کا جینا دوبھر کر چکی ہے، مگر حالیہ توانائی پالیسیوں نے رہی سہی کسر بھی پوری کر دی ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ریاست نے شہریوں کو سہولت فراہم کرنے کے بجائے انہیں بلوں کے بوجھ تلے دبانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔
ہر ماہ بجلی اور گیس کے بل کسی نئے صدمے کے ساتھ آتے ہیں۔ یونٹس کم ہوں یا زیادہ، فکسڈ چارجز، فیول ایڈجسٹمنٹ، کوارٹرلی ایڈجسٹمنٹ، ٹی وی فیس، مختلف سرچارجز اور ٹیکسز کی بھرمار نے بل کو ایک پیچیدہ اور خوفناک دستاویز بنا دیا ہے۔ ایک عام صارف آج یہ بھی نہیں جانتا کہ وہ اصل میں بجلی اور گیس کا بل دے رہا ہے یا درجنوں سرکاری مدات کی فیس بھر رہا ہے۔
حکومت بار بار توانائی اصلاحات کا دعویٰ کرتی ہے، مگر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر اصلاحات ہو رہی ہیں تو عوام کو ریلیف کیوں نہیں مل رہا؟ آخر گردشی قرضہ کم کیوں نہیں ہو رہا؟ کیا اس کا بوجھ صرف غریب اور متوسط طبقے نے ہی اٹھانا ہے؟ کیا بجلی چوری، لائن لاسز، ناقص منصوبہ بندی، مہنگے آئی پی پیز معاہدے اور ادارہ جاتی نااہلی کا کوئی احتساب نہیں؟
آج صورتحال یہ ہے کہ ایک محنت کش سردیوں میں ہیٹر چلانے سے خوف کھاتا ہے اور گرمیوں میں پنکھا یا کولر بھی سوچ سمجھ کر استعمال کرتا ہے۔ یہی نہیں بلکہ کئی علاقوں میں سوئی گیس ہفتوں غائب رہتی ہے، مگر بل پورا آتا ہے۔ بجلی کی گھنٹوں کی لوڈشیڈنگ کے باوجود یونٹس مکمل شمار ہوتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ جب سروس پوری نہیں ملتی تو وصولی مکمل کس بنیاد پر کی جا رہی ہے؟
دیہی اور پسماندہ علاقوں میں یہ مسئلہ اور بھی سنگین ہے۔ وہاں سال کے چند مہینے ہی گیس میسر ہوتی ہے، باقی وقت لکڑی اور مہنگے سلنڈر استعمال کرنا پڑتے ہیں۔ کم وولٹیج، ٹرانسفارمر کی خرابیاں اور مسلسل ٹرپنگ نے کاروباری سرگرمیوں کو مفلوج کر دیا ہے۔ چھوٹے دکاندار، کاریگر اور مزدور سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں، مگر ان کی آواز ایوانِ اقتدار تک نہیں پہنچتی۔
نئی پالیسیوں کے تحت اسمارٹ میٹر، ایڈوانس بلنگ اور مزید سخت شرائط نافذ کر دی گئی ہیں، مگر صارفین سے نہ تو مشاورت کی گئی اور نہ ہی ان کی مالی حیثیت کو مدنظر رکھا گیا۔ ریاست شہریوں سے کہتی ہے کہ وہ بجلی اور گیس کم استعمال کریں، مگر حکومتی دفاتر میں دن رات اے سی، روشنیاں اور بھاری مشینری بلا روک ٹوک چلتی رہتی ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کفایت شعاری صرف عوام کے لیے کیوں؟
نادہندگان کے خلاف سخت کارروائی، کنکشن کی منقطعیاں اور بھاری جرمانے ایک الگ مسئلہ بن چکے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ آج بہت سے لوگ جان بوجھ کر بل ادا نہیں کرتے بلکہ وہ اس قابل ہی نہیں رہے کہ بیس سے تیس ہزار روپے ماہانہ بجلی و گیس کے بل ادا کر سکیں۔ ایک دیہاڑی دار، ایک رکشہ ڈرائیور یا ایک دکاندار آخر کیسے یہ بوجھ اٹھائے؟
توانائی کے شعبے میں فیصلے بند کمروں میں ہوتے ہیں اور ان کا حساب عوام سے لیا جاتا ہے۔ نہ پارلیمنٹ میں سنجیدہ بحث ہوتی ہے، نہ عوامی رائے کو اہمیت دی جاتی ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ عوام میں شدید بے چینی، اضطراب اور بےاعتمادی پیدا ہو چکی ہے۔ اگر یہی روش برقرار رہی تو یہ معاشی مسئلہ جلد ایک بڑے سماجی بحران میں تبدیل ہو سکتا ہے۔
حقیقی اصلاحات کا مطلب نرخ بڑھانا نہیں بلکہ نظام کو درست کرنا ہے۔ بجلی چوری کے منظم نیٹ ورک کا خاتمہ، لائن لاسز میں کمی، مہنگے معاہدوں پر نظرِ ثانی، کرپشن کا قلع قمع اور اداروں کی کارکردگی میں بہتری ہی وہ راستہ ہے جس سے توانائی کا شعبہ مستحکم ہو سکتا ہے۔ اگر یہ اقدامات کیے جائیں تو عوام کو سزا دیے بغیر بھی نظام کو بہتر بنایا جا سکتا ہے۔
آخر میں یہ کہنا حقیقت کے عین مطابق ہوگا کہ سوئی گیس اور بجلی ریاست کی طرف سے عوام پر کوئی احسان نہیں بلکہ ان کا بنیادی حق ہے۔ اگر ان سہولتوں کو منافع کی منڈی بنا دیا گیا تو یہ عوامی فلاح کے تصور کی نفی ہوگی۔ اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت عوام کو صارف نہیں بلکہ شہری سمجھے، ورنہ بنیادی سہولتیں واقعی عوام کے لیے سزا بن جائیں گی۔







































Visit Today : 195
Visit Yesterday : 587
This Month : 4096
This Year : 32524
Total Visit : 89313
Hits Today : 579
Total Hits : 217464
Who's Online : 6



























