30 نومبر “پیپلزپارٹی کا یومِ تاسیس” تجدیدِ عہد کا دن
bbc news urdu نے Sunday، 30 November 2025 کو شائع کیا.
30 نومبر “پیپلزپارٹی کا یومِ تاسیس” تجدیدِ عہد کا دن
تحریر: ملک ارشد اقبال بھٹہ
ممبر پیپلزپارٹی پنجاب کونسل

پاکستان کی سیاسی تاریخ میں بعض دن محض ایک تاریخ نہیں ہوتے،، وہ ایک عہد، ایک فکر اور ایک جدوجہد کی علامت بن جاتے ہیں۔ 30 نومبر ایسا ہی دن ہے، جب پاکستان پیپلز پارٹی کی بنیاد رکھی گئی، اور پاکستان کے پسے ہوئے طبقات کو ایک نئی امید، نئی آواز اور نئے سیاسی شعور کا تحفہ ملا۔ اگرچہ آج بھی ایک سیاسی جماعت عوام کو شعور دینے کی دعویدار ہے مگر درحقیقت سیاسی شعور تو ستر کی دہائی میں عوامی رہنما اور پاکستان کے پہلے منتخب جمہوری وزیراعظم فخرِ ایشیا ذوالفقار علی بھٹو نے دے کر پاکستانیوں کی زندگیوں میں خالصتا” ایک ایسا عوامی و جمہوری انقلاب برپا کیا کہ جس کی بدولت پسے ہوئے عام لوگوں کو اپنے بنیادی حقوق و فرائض کو نہ صرف سمجھنے میں مدد ملی بلکہ ظالم طبقات کو للکارنے کا حوصلہ بھی ملا ۔یہ وہ سیاسی شعور یا بیداری نہیں تھی کہ جس نے معاشرے میں ہیجان یا انتشار پھیلا کر عدم برداشت ‘ بد تہذیبی ‘ بدکلامی ‘ مخالفین کو گالی گلوچ یا اخلاقی دیوالیے پن کا شکار کر دیا ہو بلکہ ملکی و شرعی قوانین و حدود میں رہ کر اپنے غصب شدہ گقوق کی بازیابی کے لیے جدجہد ‘ محنت اور وطن سے بے لوث محبت کا درس دیا اور عام آدمی کو یہ احساس دیا کہ وہ بھی اس ملک کی ترقی و سلامتی سرحدوں کے دفاع اور خوش حالی میں برابر کے شریک و حصہ دار ہیں ‘ یہی وہ سوچ ‘ شعور ‘ فکر اور آگاہی تھی جو ” بھٹو ازم ” کہلائی ۔۔
پاکستان پیپلز پارٹی اور ذوالفقار علی بھٹو نے دنیا کے پساندہ ممالک میں وہ پُرامن شعوری انقلاب برپا کر دیا کہ جس نے غاصبانہ نظامِ سیاست کی بنیادیں ہلا کر رکھ دیں اور دنیا بھر بالخصوص تیسری دنیا کے بنیادی حقوق سے محروم طبقات نے بھٹو کو اپنا مسیحا لیا جبکہ جابر طاغوتی طاقتوں نے اس عوامی رہنما کو اپنے مذموم مقاصد کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ کے طور پر دیکھا ۔
مٙیں سمجھتا ہوں 1947 سے 2025 تک کے سفر میں ذوالفقار علی بھٹو کے محض ابتدائی 3 سال پاکستان میں عوامی و جمہوری اسلامی ریاست و حکومت رہی جس میں بھٹو نے اپنی خداداد صلاحیتوں سے وہ کارہائے نمایاں سرانجام دئے کہ جن کی بدولت پاکستان پیپلز پارٹی اور ذوالفقار علی بھٹو اپنے مخالفین کی بدترین مخالفت ‘ کردار کشی ‘ انتقامی و غیر جمہوری سیاست کے باوجود ذندہ و رخشندہ ہے اور کوئی بھی بھٹو کی اس تین سالہ کارکردگی کا مقابلہ تو درکنار اس کے قریب تک نہیں جا سکتا ۔۔
پاکستان پیپلز پارٹی نہ تو اینٹی اسٹیبلشمنٹ سیاسی جماعت ہے نہ غیر مذہبی اور نہ ہی بڑی طاقتوں کی مخالف جماعت ہے ۔ پیپلز پارٹی خالصتا” بائیں سوچ کی حامل وہ پروگریسیوو سیاسی جماعت ہے جو یہ چاہتی ہے کہ ہر قومی ادارہ ملکی و عوامی سلامتی و خاشحالی کے لیے آئینی و قانونی حدود میں رہ کر اپنی اپنی ذمہ داری بہ احسن ادا کرے اور پارلیمنٹ کو بالادست تسلیم کرتے ہوئے کارِ سیاست میں کسی حال مداخلت مت کرے تاکہ عوام کو ان کے بنیادی حقوق و آزادی حاصل ہوں اور اقوامِ عالم پاکستان پر بھروسہ کرتے ہوئے اس کی صلاحیتوں اور جغرافیائی اہمیت و مقام کے پیشِ نظر اسے اپنے شانہ بشانہ سمجھ کر باہمی عزت و احترام کے ساتھ وہ مقام دے جو دنیا کی باقی مہذب و ترقی یافتہ اقوام و معاشروں کو حاصل ہے ۔۔
30 نومبر پاکستان پیپلز پارٹی کا محض یومِ تاسیس نہیں بلک عام آدمی ‘ کسان، مزدور ‘ طالبِ علم ‘ اساتذہ ‘ دانش ور ‘ وکیل ‘ تاجر ‘ صنعتکار ‘ اور بنیادی انسانی حقوق و مراعات سے محروم طبقات کے ساتھ کیے گئے ” روٹی کپڑے اور مکان ” کے علاوہ ملکی سلامتی و دفاع اور عوامی ترقی و خوش حالی اور اقلیتوں سے بھی تجدیدِ عہد کا دن ہے ۔
مضمون کی طوالت کے پیشِ نظر ذوالفقار علی بھٹو اور پاکستان پیپلز پارٹی کے چند کارنامے عوامی معلومات کے لیے ضبطِ تحریر میں لاتا ہوں :–
1973 کا ایسا متفقہ دستور جس نے وفاقِ پاکستان کو آج تک جوڑ رکھا ہے
حضرت محمد مصطفیٰ صل اللہ علیہ و آلہ وسلم سے محبت کا ثبوت دیتے ہوئے صدی پرانے قادیانی فتنہ کو ” ختمِ نبوت ” قانون کے تحت قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دے کر ہمیشہ کے لیے جڑ سے اکھاڑ پھینکا
ایٹم بم کی بنیاد رکھ کر پاکستان کو ناقابلِ تسخیر بناتے ہوئے جغرافیائی سرحدوں کو تحفظ فراہم کر دیا جس کے باعث آج ہم آرام کی نیند سوتے ہیں
شناختی کارڈ اور پاسپورٹ کے زریعے نہ صرف ہمیں شناخت دی بلکہ بیرون ممالک سے روزگار کما کر اپنے خاندانوں کی باعزت کفالت اور ملکی ترقی و خوشحالی میں اپنا حصہ ڈالنے کا موقع بھی فراہم کر دیا
سٹیل ملز کراچی کی بنیاد رکھ کر پاکستانی معیشت کو مضبوط بنایا
90 ہزار سے زائد جنگی قیدی باعزت اور 6 ہزار مربع میںل مقبوضہ زمین بغیر کچھ دیے ہندوستان سے واپس لے کر انوکھا کارنامہ سرانجام دیا
آمروں اور غیر جمہوری حملہ آوروں سے وزیر اعظم صدر گورنر وزیراعلی ہاوس اور دوسرے اہم ترین مقامات کی حفاظت کے لیے فیڈرل سیکیورٹی فورس ( FSF ) بنائی گئی جو طالع آزماوں کے ہوسِ اقتدار کے باعث منفی پروپیگنڈوں کی نذر ہو کر اپنا وجود کھو بیٹھی جس سے ہماری اہم ترین سیکورٹی جی ایچ کیو کے طابع ہو کر مارشلاوں اور سیاست میں بے دریغ مداخلت کا سبب بنی ہوئی ہے ۔۔
ٹیکسلا آرمز فیکٹری کے ذریعے پاکستان میں اسلحہ سازی کی بنیاد رکھ کر پاک فوج و ملکی دفاع کو مضبوط کیا.
گوادر پورٹ قائم کر کے دنیا کے ساتھ تجارت کے راستے کھولے.
پاکستان ٹیلی ویژن کارپوریشن کے زریعے عوام کو تفریح و معلومات فراہم کیں.
اسلامی سربراہی کانفرنس لاہور میں منعقد کی جس میں عالمِ اسلام کے تمام بڑے سربراہانِ مملکت اور جید علماء نے شرکت کی جس سے متفقہ فیصلوں کے راستے کھلے.
مسلہ کشمیر کو سلامتی کونسل میں بھرپور انداز میں اٹھا کر کشمیری بھائیوں کو حقِ لود ارادیت کی بنیاد فراہم کی.
اسلامی نظریاتی جونسل قائم کر کے پاکستان کو اسلام و شریعتِ محمدی کی تحت چلانے کی راہ فراہم کی اور پاکستان کو مسلمان ممالک کے قریبی تجارتی رابطے کے لیے جمعہ کی ہفتہ وار چُھٹی لازمی قرار دی.
پاکستان کا پہلی بار سرکاری و قومی ” اسلامی جمہوریہ پاکستان ” آئیبی طور پر نام رکھا گیا
اسلامی ممالک کو اسلامی بنک ‘ اسلامی اتحاد ‘ اسلامی فوج ‘ اور نیٹو طرز کی اسلامی سلامتی کونسل بنانے کی تجویز دی گئی
امریکہ روس اور چین کے ساتھ برابری کی سطح پر تعلقات کار قائم کر کے پاکستان کو ہر لحاذ سے تحفظ فراہم کیا گیا
پاک چین اٹوٹ دوستی کی بنیاد رکھی گئی
روس کے ساتھ تجارتی معاہدے کیے گئے جو صرف امریکہ کے ساتھ ہوا کرتے تھے
کسانوں کو زرعی اور مزدوروں کو مزدور پالیسی دے کر ملکی ترقی و خوشحالی میں شریکِ کار کیا گیا
مزدوروں کے لیے 15 گھنٹوں کی بجائے محض 8 گھنٹے کام کے اوقات کار قائم کرنے کے علاوہ صنعتی منافع میں حصہ دار اور طبی سہولتوں کے لیے سوشل سیکورٹی ہسپتالوں کے زریعے انہیں تحفظ فراہم کیا گیا
عوای مفاد و خوشحالی ‘ ملکی ترقی و سلامتی کے علاوہ یبیشمار ایسے اقدامات کیے گئے جہ جن سے بین الاقوامی برادری میں پاکستان کا وقار بڑھا
الغرض ذوالفقار علی بھٹو محض ایک شخص نہیں بلکہ ایک سوچ ایک فکر ایک نظریہ تھا جس نے پُرامن شعوری انقلاب کے زریعے عوام کو جیبنے اور دوسرے کی عزت و احترام برقرار رکھتے ہوئے اپنے حقوق کی جنگ لڑنے اور غاصبوں سے حقیقی آزادی کا حوصلہ دیا ۔
پاکستان پیپلز پارٹی کو آج پھر انہی خطوط پر استوار کر کے عوام اور نظریاتی کارکنوں کی نمائیندہ جماعت بننے کی ضرورت ہے ۔۔
ٹیگز:-






































Visit Today : 191
Visit Yesterday : 587
This Month : 4092
This Year : 32520
Total Visit : 89309
Hits Today : 546
Total Hits : 217431
Who's Online : 1



























